ہمیں نیکی کی دعوت دینے کا ثواب مل جائے گا ۔ چُنانچِہ حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام مُحمدغزالی
علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْوالی
''مُکاشَفَۃُالقُلُوب'' میں فرماتے ہیں ،حضرتِ سیِّدُنا مُوسیٰ کلیمُ اللہ
عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
نے عرض کیا ،اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! جو اپنے بھائی کو بُلائے ۔ اُسے نیکی کا حُکم کرے اور بُرائی سے روکے ،اُس کی کیاجَزا ہے ؟ فرمایا ،''میں اُس کی ہربات پر ایک سال کی عِبادت کاثواب لکھتا ہوں اور اُسے جہنَّم کی سزا دینے میں مجھے حَیا آتی ہے ۔''
(مُکاشَفَۃُالقُلُوب ص۴۸ )
رُوئے زمین کی سلطنت سے بہتر
اگر آپ کی اِنفِرادی کوشِش سے کوئی نَماز وں اور سنّتوں کی راہ پر چل پڑا تو آپ کا بھی بیڑاپار ہوجائے گا ۔ جیسا کہ رَحْمتِ عالَم ، نورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحْتَشَم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کااِرشاد ِ معظَّم ہے،'' اللہ تعالیٰ ایک شخص کو تیرے ذَرِیعہ سے ہِدایت فرمادے تو یہ تیرے لیے تمام رُوئے زمین کی سلطنت ملنے سے بہتر ہے ۔''
(جامِعُ الصَّغِیرص۴۴۴ رقم الحدیث۷۲۱۹)
ایک مرتبہ سیِّدُناخالِدبن ولیدرضی اﷲ تعالیٰ عنہُ سے کچھ مَجوسیوں نے عرض کیا کہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)