جوشَخص کسی جَانورپرسُوارہوتے وَقت
پڑھ لے تواُس جَانورکے ہرقَدم پراُس سُوارکے حق میں ایک نیکی لکھی جائے گی۔
(تفسیرِ نعیمی جلد اوّل ص۴۲)
کِشتی میں نیکیاں ہی نیکیاں
جوشخص کِشتی میں سُوارہوتے وَقْت
پڑھ لے ، جب تک و ہ اُس میں سُوار رہے گااُسکے واسِطے نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کے فضائل اس قَدَر زیادہ ہیں کہ پڑھ یا سُن کر جی چاہتا کہ ہر وَقْت ''
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ''
ہی پڑھتے رہیں، مگر یہ سعادت صِرْف ربُّ الْعزّت عَزَّوَجَلَّ ہی کی عنایت سے مل سکتی ہے، اﷲعَزَّوَجَلَّ کی عطا سے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں رَہ کر ایک دوسرے پر اِنفِرادی کوشِش کے ذَرِیعے بھی اﷲ عَزَّوَجَلَّ کا کرم ہو جائے تو
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھتے رہنے کی عادت بن سکتی ہے۔ یقینا دین کی تبلیغ و اشاعت میں اِنفِرادی کوشِش کو بڑا عمل دَخل ہے۔ حتّٰی کہ ہمارے میٹھے میٹھے آقا مدینے والے مصطَفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نیز سب کے سب انبیاء علیھم السلام نے نیکی کی دعوت کے کام میں اِنفِرادی