| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھو بے شک تمہارا مجھ پر دُرُود پاک پڑھنا تمہارے گناہوں کیلئے مغفرت ہے۔
یہاں تک کہ بستر سے اُٹھ کر مجھے باہَر تک پہنچانے آئے ۔ رفتہ رفتہ ہاتھ کی تکلیف ختْم ہوگئی مگر بے چارے کا دوسرا امتحان شروع ہوگیا اور وہ یہ کہ سینے میں پانی بھر گیا ، دَرْد و کرب میں دِن کٹنے لگے ۔آخِر ایک دِن تکلیف بَہُت بڑھ گئی ،ذکرُاللہ شروع کردیا ، سارا دِن اللہ ،اللہ کی صداؤں سے کمرہ گونجتا رہا ،طبیعت بَہُت زِیادہ تشویش ناک ہوگئی تھی، ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی کوشِش کی گئی مگر انکار کردیا ، دادی جان نے فَرطِ شفقت سے گود میں لے لیا ، زَبان پر کَلِمہ طیّبہ،
لَآ اِلٰہَ اِلَّاا للہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
جاری ہوا اور 22 سالہ محمد وسیم عطاری کی روح قَفَسِ عُنصُری سے پرواز کر گئی ۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن o
جب مرحوم کو غُسل کیلئے لے جانے لگے تو اچانک چادر چِہرے سے ہٹ گئی ،مرحوم کا چِہرہ گلاب کے پھول کی طرح کھِلا ہواتھا ،غُسل کے بعد چِہرہ کی بَہار میں مزید نِکھار آگیا ۔تدفین کے بعد عاشِقانِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نعتیں پڑھ رہے تھے ،قَبْر سے خوشبوؤں کی ایسی لَپٹیں آنے لگیں کہ مَشامِ جاں مُعَطّر ہوگئے مگر جس نے سونگھی اُس نے سونگھی ۔گھر کے کسی فرد نے انتِقال کے بعد خواب میں مرحوم محمد وسیم عطّاری کو پھولوں سے سجے ہوئے کمرے میں دیکھا ،پوچھا ،کہاں رہتے ہو؟ ہاتھ سے ایک کمرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ،'' یہ میرا مکان ہے یہاں میں بَہُت خوش ہوں '' ۔پھر ایک آراستہ بستر پر لیٹ گئے ۔ مرحوم کے والِد صاحب نے