Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
23 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
اسے مایوس کر دیا تو اُس نے راہِب کو بھی قَتْل کر ڈالا ۔ مگر پھر نادِم ہوکر توبہ کا طریقہ لوگوں سے پوچھتا پھرا۔ آخِر کسی نے کہا کہ فُلاں قَصبہ میں چلے جاؤ (وہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ایک ولی ہے وہ تمہاری رہنُمائی کریگا ۔ )چُنانچِہ وہ اُس کی طرف چلد یا مگر راستے میں بیمار ہو گیا ۔ جب قریبُ الْمَرْگ ہوا تو اس نے اپنا سینہ اُس قَصبہ کی طرف کردیا اور فَوت ہو گیا۔ اب اس کو لے جانے کے بارے میں رَحْمت و عذاب کے فِرشتوں میں اختِلاف ہوا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میِّت اورقَصبہ کے درمیان والے حصّہ زمین کو سِمٹ کر میِّت کے قریب ہو جانے کا حُکْم فرمایا اور جِدھر سے وہ چلا تھا اور جہاں پَہُنچ کر فوت ہوا تھا اُس درمیانی فاصِلے کو مزید طویل ہو جانے کا حُکْم فرمایا۔ پھر پیمائش کا حُکْم فرمایا تو وہ جس قَصبہ کی طرف جا رہا تھا اُس سے ایک بالِشْت قریب پایا گیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس کی مغفِرت فرما دی۔
 (صحیح بخاری رقم الحدیث ۳۴۷۰ ج۲ ص ۴۶۶)
اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوااولیائے کرام
رَحِمَہُمُ اللہُ تعالٰی
کی بارگاہ میں حاضِری اور ان کی بستی کی تَعظِیم کرتے ہوئے اُس کو اپنی رُوح کا قِبلہ بنانا انتِہائی پسندیدہ عمل ہے،بس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحْمت پر جھوم جایئے جو پَر وَر دگارعَزَّوَجَلَّ 100 آدَمیوں کے قاتِل کو محض اپنی رَحْمت سے بخْش
Flag Counter