اسے مایوس کر دیا تو اُس نے راہِب کو بھی قَتْل کر ڈالا ۔ مگر پھر نادِم ہوکر توبہ کا طریقہ لوگوں سے پوچھتا پھرا۔ آخِر کسی نے کہا کہ فُلاں قَصبہ میں چلے جاؤ (وہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ایک ولی ہے وہ تمہاری رہنُمائی کریگا ۔ )چُنانچِہ وہ اُس کی طرف چلد یا مگر راستے میں بیمار ہو گیا ۔ جب قریبُ الْمَرْگ ہوا تو اس نے اپنا سینہ اُس قَصبہ کی طرف کردیا اور فَوت ہو گیا۔ اب اس کو لے جانے کے بارے میں رَحْمت و عذاب کے فِرشتوں میں اختِلاف ہوا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میِّت اورقَصبہ کے درمیان والے حصّہ زمین کو سِمٹ کر میِّت کے قریب ہو جانے کا حُکْم فرمایا اور جِدھر سے وہ چلا تھا اور جہاں پَہُنچ کر فوت ہوا تھا اُس درمیانی فاصِلے کو مزید طویل ہو جانے کا حُکْم فرمایا۔ پھر پیمائش کا حُکْم فرمایا تو وہ جس قَصبہ کی طرف جا رہا تھا اُس سے ایک بالِشْت قریب پایا گیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُس کی مغفِرت فرما دی۔