Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
19 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر ایک باردُرُود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے ۔
نام کے لائق ہی ہونی چاہیے۔ہم فقیر گنہگار بندے بھی عرض کرتے ہیں،اے مولیٰ!عَزَّوَجَلَّ ہم کو ہمارے لائِق نہ دے بلکہ اپنے جُودو سخا کے لائق دے۔ بیشک ہم گُنہگار ہیں لیکن تیری غَفّاری ہماری گنہگاری سے وسیع ہے
(تفسیرِ نعیمی پہلا پارہ ص ۴۰)
           گُنَہِ گدا کا حساب کیا  وہ اگرچِہ  لاکھ سے ہیں سوا

          مگر اے عَفُوّتِرے عَفْوْکا نہ حساب ہے نہ شمار ہے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! 	صلّٰی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اﷲ عَزَّوَجَلَّ یقیناً رحْمٰن اور رَحِیْم ہے ، جو اِس کی رَحْمت پر نظر رکّھے اور اُس کے ساتھ اپنا حُسنِ ظَن قائم کرے
اِن شاءَ اﷲ عَزَّوَجَلَّ
دونوں جہاں میں اُس کا بیڑا پار ہے ،اﷲ عَزَّوَجَلَّ کی رَحْمت سے اُس کو کبھی بھی محرومی نہیں ہو سکتی ۔ چُنانچِہ تفسیرِ نَعِیمی پارہ اوّل ص ۳۸ پر ہے،
رحمت بھری حِکایت
دو بھائی تھے ، ایک پرہیز گار دوسرا بد کار۔ جب بدکار مرنے لگا تو پرہیز گار بھائی نے کہا ، دیکھا تجھے میں نے بَہُت سمجھا یا مگرتُو اپنے گناہوں سے باز نہ آیا، اب بول تیرا کیا حال ہوگا؟ اُس نے جواب دیا کہ اگر قِیامت کے روز میرا ربّ عَزَّوَجَلَّ میرا فیصلہ میری ماں کے سِپُرد کر دے تو بتاؤ کہ ماں مجھے کہاں بھیجے گی دوزخ میں یا جنّت میں؟پرہیز گار بھائی نے
Flag Counter