صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلّٰی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اﷲ عَزَّوَجَلَّ یقیناً رحْمٰن اور رَحِیْم ہے ، جو اِس کی رَحْمت پر نظر رکّھے اور اُس کے ساتھ اپنا حُسنِ ظَن قائم کرے
دونوں جہاں میں اُس کا بیڑا پار ہے ،اﷲ عَزَّوَجَلَّ کی رَحْمت سے اُس کو کبھی بھی محرومی نہیں ہو سکتی ۔ چُنانچِہ تفسیرِ نَعِیمی پارہ اوّل ص ۳۸ پر ہے،
دو بھائی تھے ، ایک پرہیز گار دوسرا بد کار۔ جب بدکار مرنے لگا تو پرہیز گار بھائی نے کہا ، دیکھا تجھے میں نے بَہُت سمجھا یا مگرتُو اپنے گناہوں سے باز نہ آیا، اب بول تیرا کیا حال ہوگا؟ اُس نے جواب دیا کہ اگر قِیامت کے روز میرا ربّ عَزَّوَجَلَّ میرا فیصلہ میری ماں کے سِپُرد کر دے تو بتاؤ کہ ماں مجھے کہاں بھیجے گی دوزخ میں یا جنّت میں؟پرہیز گار بھائی نے