Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
18 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اُس نے مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھا تحقیق وہ بد بخت ہوگیا۔
عظمت والے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مغفِرت طلب کرتے ہوئے اُس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔)
(اَلْمُنَبِّھات لِلْعَسْقَلانی ص ۵۸)
جیسا دروازہ ویسی بھیک
مفَسّرِشَہِیرحضرتِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ المنّان فرماتے ہیں ،اﷲ تعالیٰ نے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
میں اپنے اِسمِ ذات کے ساتھ رَحْمت کی دو صِفات کا بیان فرمایا ہے کیوں کہ اﷲ عَزَّوَجَلَّ کے نامِ مبارَک میں ہیبت تھی اور رَحْمٰن اور رَحِیم میں رَحمت ۔ اﷲ عَزَّوَجَلَّ کا نام سن کر نیک بندوں کو بھی کچھ عرض کرنے کی جُرْأَت (جُرْ۔ءَتْ )نہ ہوتی تھی لیکن رَحْمٰن اور رَحِیم سن کر ہر مجرِم اور خطاکار کو بھی عرض کرنے کی ہّمت پڑی اور حقیقت بھی یِہی ہے، اس کے جلال کے سامنے کون دَم مار سکتا ہے اور ظُہُورِ جمال کے وَقْت ہر ایک ناز کر سکتا ہے۔''تفسیر کبیر شریف'' میں اس کے ماتحت ایک عجیب حِکایت لکھی ہے کہ ایک سائل ایک بَہُت بڑے مالدار کے عظیمُ الشَّان دروازے پر آیا اور کچھ سُوال کیا ، مکان میں سے معمولی سی چیز آئی ۔ فقیرنے لے لی اور چلا گیا۔ دوسرے دن ایک بہت مضبوط پھاؤڑا لے کر آیا اوردروازہ کھودنے لگا، مالِک نے پوچھا ،یہ کیا کرتا ہے ؟ فقیر نے کہا ، ''یا تو عطا کو دروازے کے لائق کریا دروازہ عطا کے لائق کر'' یعنی جب دروازہ اتنا بڑا بنایا ہے تو ضَروری ہے کہ بڑے دروازے سے بڑی ہی بھیک ملا کرے کیونکہ عطا دروازے اور
Flag Counter