علیہِ رَحمَۃُ اللہِ الْوَدُود
نے جب شاہِ خیر الانام صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کارَحْمتوں بھرا پیغا م سنا تو رونے لگے اور تَصدیق کرتے ہوئے اُس کا قرض اُتار دیا اور ایک ہزار دِرْہم مزید پیش کئے ۔وُزَراء وغیرہ مُتَعَجِّب ہوکر عرض گزار ہوئے ! عا لیجا ہ ! اِس شخص نے ایک ناممکن سی بات بتائی ہے اور آپ نے بھی اس کی تَصدیق فرمادی حالانکہ ہم آپ کی خدمت میں حاضِر ہوتے ہیں آپ نے کبھی اتنی تعداد میں دُرُود شریف پڑھا ہی نہیں اور نہ ہی کوئی آدَمی رات بھر میں ساٹھ ہزار بار دُرُود شریف پڑھ سکتا ہے۔سلطان محمود
علیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَدُود
نے فرمایا ! تم سچ کہتے ہو لیکن میں نے عُلَمائے کِرام سے سنا ہے کہ جو شخص دس ہزاری دُرُود شریف ا یک بار پڑھ لے اُس نے گویا دس ہزار بار دُرُود شریف پڑھے ۔میں تین بار اوّل شب میں اور تین بار آخرِ شب میں دس ہزاری دُرُودِ شریف پڑھ لیتا ہوں ۔اِس طرح سے میر اگمان تھا کہ میں ہر رات ساٹھ ہزار بار دُرُود شریف پڑھتا ہوں۔جب اس خوش نصیب عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے