حضرتِ سلطان محمود غزنوی علیہ رحمۃُ اللہِ الْقوی ۱ ؎ کی خدمت میں ایک شخص حاضِر ہوا اور عرض کی کہ میں مدّتِ مَدید سے حبیبِ ربِّ مجیدعَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دید کی عیدِ سعید کا آرزو مند تھا قسمت سے گزَشتہ رات سرورِ کائنات ،شاہِ موجودات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت کی سعادت مِلی۔حُضور مُفِیْضُ النُّور ،شاہِ غَیُور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کومَسرور پاکر عرض کی ،یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! میں ایک ہزار دِرہم کا مقروض ہوں ،اِس کی ادائیگی سے عاجِز ہوں اور ڈرتا ہوں کہ اگر اسی حالت میں مرگیا تو بارِقرض میری گردن پر ہوگا ۔رَحْمتِ عالَم ، نورِ مُجسَّم ،شاہِ بنی آدم ،رسولِ مُحْتَشَم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا :محمود سُبُکْتَگِین کے پاس جاؤوہ تمہا را قرض اُتار دے گا ۔میں نے عرض کی،وہ کیسے اعتِما د کریں گے ؟ اگر اُن کیلئے کوئی نِشانی عنایت فرمادی جائے تو کرم بالائے کرم ہوگا ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا، جاکر اس سے کہو ،اے محمود! تم رات کے