Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
164 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) جس نے یہ کہا ،جزی اللہ عنّا محمّدا مّا ھو اھلہ،ستر فِرِشتے ایک دن تک اس کیلئے نیکیاں لکھتے رہیں گے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصّلوٰۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ

اَمّابَعْدُ فَاَ عُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ؕ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ؕ
محمود غزنوی کی بارگاہِ رِسالت میں مقبولیّت
    حضرتِ سلطان محمود غزنوی علیہ رحمۃُ اللہِ الْقوی ۱ ؎ کی خدمت میں ایک شخص حاضِر ہوا اور عرض کی کہ میں مدّتِ مَدید سے حبیبِ ربِّ مجیدعَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دید کی عیدِ سعید کا آرزو مند تھا قسمت سے گزَشتہ رات سرورِ کائنات ،شاہِ موجودات صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت کی سعادت مِلی۔حُضور مُفِیْضُ النُّور ،شاہِ غَیُور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کومَسرور پاکر عرض کی ،یا رسولَ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! میں ایک ہزار دِرہم کا مقروض ہوں ،اِس کی ادائیگی سے عاجِز ہوں اور ڈرتا ہوں کہ اگر اسی حالت میں مرگیا تو بارِقرض میری گردن پر ہوگا ۔رَحْمتِ عالَم ، نورِ مُجسَّم ،شاہِ بنی آدم ،رسولِ مُحْتَشَم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا :محمود سُبُکْتَگِین کے پاس جاؤوہ تمہا را قرض اُتار دے گا ۔میں نے عرض کی،وہ کیسے اعتِما د کریں گے ؟ اگر اُن کیلئے کوئی نِشانی عنایت فرمادی جائے تو کرم بالائے کرم ہوگا ۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا، جاکر اس سے کہو ،اے محمود! تم رات کے
؂۱   محمود غزنوی علیہ رحمۃ اللہ القوی دسویں صدی عیسوی میں غزنی کے بہت بہادر اور عاشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم بادشاہ گزرے ہیں ان کا نام سلطان ناصرالدین ابنِ سُبُکتَگِین تھا، انہوں نے کافی فُتوحات کیں  اور زبردست کامیابیاں حاصل کیں۔
Flag Counter