| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اس نے مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھا اُس نے جفاء کی۔
زَھر بھی کھا لیں تو کوئی اثر نہیں ہوتا مگرہم اتنا بڑا خطرہ کس طرح مول لیں ! کیونکہ ہمارا تو تجرِبہ ہے کہ اگرچِہ بِسمِ اﷲ پڑھ کر بھی کوئی مُرغَّن غذا کھا لی تو پیٹ میں''گڑبڑ '' ہو جاتی ہے! علاجِ وَسوسہ: ''کارتُوس'' شیر کو بھی مار سکتا ہے جبکہ بہترین بندوق سے اچّھی طرح فَیر (fire)کیا جائے، اِسی طرح یُوں سمجھیں کہ اَورادو و ظائف اور دعائیں ''کارتوس'' کی طرح ہیں اور پڑھنے والے کی زَبان مِثْلِ بندوق۔ تودُعائیں وُہی ہیں مگر ہماری زَبانیں صَحابہ و اَولیاء
عَلَیہُمُ الرِّضْوَان
کی سی نہیں ۔ جس زَبان سے روزانہ جُھوٹ، غیبت،چُغلی، گالی گلوچ، دل آزاری و بد اَخلاقی کا صُدُور جاری رہے اُس میں تاثیر کہاں سے آئے؟ ہم دُعاء تو مانگتے ہی ہیں مگر جب مشکل آتی ہے تو بُزُرگوں کے پاس حاضِر ہو کر بھی دعاء کی درخواست کرتے ہیں، کیوں ؟ اِس لئے کہ ہر ایک کا ذِہن یِہی بنا ہوا ہے کہ پاک زَبان سے نکلی ہوئی دُعاء زیادہ کارگر ہوتی ہے۔ یقینا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھ کر خالِد بن وَلید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بِلاخَطَر زَہرپی لیا،
اَلْحَمْدُ ﷲعَزَّوَجَلَّ
اُن کی زَبان پاک، اُن کا دل پاک ، اُن کاسارا وُجُود گناھوں سے پاک لھٰذا اﷲ عَزَّوَجَلَّ کے نامِ پاک کی بَرَکت سے زَہر نے اثر نہ کیا۔ اِسی طرح حضرتِ سیِّدُناابوالدَّرْدا ء ، اور سیِّدُنا ابو مُسلِم خولانی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما اپنی پاک زَبان سے اﷲ عَزَّوَجَلَّ کا پاک نام لیتے تو زَہربے اثر ہوکر رَہ