جاتا تھا۔ورنہ زَہر پھر زَہْرْ ہوتا ہے انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا اس کو اس سَنسنی خَیز حِکایت سے سمجھنے کی کوشِش کیجئے، کتابُ الْاَ ذْکیاء میں ہے ،ایک حج کا قافِلہ دورانِ سفر ایک چشمہ پر پہنچا ، معلوم ہوا کہ یہاں ماہر طبیبوں کا گھر ہے، ان کے پاس جانے کا انہوں نے یہ حیلہ نکالا کہ جنگل کی ایک لکڑی سے اپنے ایک ساتھی کی پنڈلی پر خَراش لگا دی جس سے وہ خون آلود ہو گئی، پھر اُس کو لیکر اُس گھر کے دروازے پر پَہُنچ کر آواز لگائی ، کیا سانپ کے کاٹے کا یہاں علاج ممکن ہے؟ آواز سن کر ایک چھوٹی لڑکی باہَر نکل پڑی، اُس نے پِنڈلی کے زخم کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا، ''اِس کو سانپ نے نہیں کاٹا بلکہ جس چیز سے اس کو خَراش لگی ہے اُس پر کوئی نَر سانپ پیشاب کر گیا ہو گا،اب یہ شخص بچے گا نہیں، جب آفتاب طُلُوع ہوگا توانتِقال کر جائے گا!'' چُنانچِہ ایسا ہی ہوا سُورج نکلتے ہی اُس نے دم توڑ دیا۔