حضرتِ سیِّدُنا ابو مُسلِم خولانی
قُدِّ سَ سِرُّ ہُ الرَّبّانی
کی ایک کنیزان سے بُغض رکھتی تھی۔یہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو زَہْر دیتی تھی مگر اثر نہ کرتا تھا۔ جب عرصہ دراز تک یہ مُعامَلہ چلتا رہا تو کہنے لگی،'' ایک دراز مدّت سے میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو زَہْر دیتی چلی آرہی ہوں مگر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر اثر انداز ہی نہیں ہورہا! ارشاد فرمایا، ''ایسا کیوں کرنا پڑا؟'' کہا،'' اس لئے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بَہُت بوڑھے ہو چکے ہیں ۔ ''ارشاد فرمایا،''
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھ لیا کرتاہوں۔''(اس کی بَرَکت سے زَھْر سے حفاظت ہوتی رہی)آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پھر اُسے آزاد فرمادیا۔
بے نوا مفلس و محتاج گدا کون؟ کہ میں
صاحبِ جو دو کرم وَصْف ہے کس کا؟ تیرا (ذوقِ نعت)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
بسم اﷲ شریف کی کیا خوب بہاریں ہیں ۔
وَسوسہ: رِوایات و حکایات سے یہی ظاہِر ہوتا ہے کہ بسم اﷲ شریف پڑھ کر