Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
159 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)اُس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر ہو ا وروہ مجھ پر دُرُود پاک نہ پڑھے۔
اِسمِ اعظم کے ساتھ اﷲ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکْر کرتا ہوں۔ پوچھا، وہ اِسمِ اعظم کون سا ہے؟ فرمایا ، (میں ہر بار کھانے پینے سے قبل یہ پڑھ لیا کرتا ہوں):
بِسْمِ اللہِالّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیئٌ فِی الْاَ رْضِ وَلَافِی السَّماءِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم۔
(یعنی اﷲ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے شروع کرتا ہوں جس کے نام کی بَرَکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیزنقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ سُننے جاننے والا ہے)

    اِس کے بعدآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے اِسْتِفسا ر فرمایا کہ تو نے کس وجہ سے مجھے زَہر دیا ؟ عرض کیا ، مجھے آپ سے بُغْض تھا۔ یہ جواب سنتے ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ نے فرمایا ، تُو لِوَجْہِ اﷲ(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے)آزاد ہے۔ اور تُو نے میرے ساتھ جو کچھ کیا وہ بھی میں نے تجھے مُعاف کیا۔
(حَیاۃُ الحَیوانُ الکُبریٰ جلد اوّل ص ۳۹۱)
اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔

             مانندِ شَمع  تیری طرف  لَو  لگی  رہے

             دے لُطف میری جان کو سوزو گُداز کا
    سبحٰنَ اﷲ !
صَحابہ کِرام
عَلَیہُمُ الرِّضْوَان
کی عظمتوں کے کیا کہنے ! یہ حضراتِ حُکمِ قراٰنی ،
اِدْفَعْ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ
(ترجَمہ کنزُالایمان : اے سُننے والے !بُرائی کو بھلائی سے ٹال
 (پ ۲۴ حٰم السجدہ ۳۴)
کی صحیح تفسیر تھے ،بار بار زَھر پلانے والی کنیز کو سزادِلوانے کے بجائے آزاد فرما دیا! اِس حکایت سے مِلتی جُلتی
Flag Counter