Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
156 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
(۴) کُنویں سے تَھیلی کیسے نکلی؟
ایک نیک خاتون تھیں جو بات بات پر
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
    پڑھا کرتی تھیں،اُن کاشو ھر جو کہ مُنافِق تھا وہ اُن کی اس عادت سے بَہُت چِڑتا تھا، آخِر کار اُس نے یہ طے کیا کہ میں اپنی زَوجہ کو ایسا ذَلیل کروں گا کہ یاد کریگی۔ چُنانچِہ اِس نے اُس کو ایک تھیلی دیتے ہوئے کہا ، سنبھال کر رکھ لو، خاتون نے وہ تھیلی بحفاظت رکھ لی ، شوہر نے موقع پا کر وہ تَھیلی اُٹھا لی اوراپنے گھر کے کُنویں میں پھینک دی تا کہ ملنے کا سُوال ہی نہ رہے۔ اِس کے بعد اِس نے اُن سے تھیلی طلب کی ۔ یہ نیک بندی تھیلی کی جگہ آئی اور جُوں ہی بسم اللہ کہا، تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جبریل علیہ السلام کو حکم دیا کہ تیزی کے ساتھ جاؤ اور تھیلی اُسی جگہ رکھ دو۔ چُنانچِہ سیِّدُنا جبرئیل علیہ السلام نے آناً فاناً تَھیلی کنویں سے نکال کر اُس کی جگہ رکھ دی۔ جب خاتون نے اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو تھیلی کو ویسے ہی پایا کہ جیسے رکھا تھا ۔ شوہرتَھیلی پا کر سخْت مُتَعجِّب ہوا اور اللہ تعالیٰ سے اُس نے سچّے دل سے توبہ کی ۔
(قلیوبی حکایت ۱۱ ص۱۱،۱۲)
اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
Flag Counter