صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
ایک کافِر ڈاکو کسی شاندار مَحَل میں داخِل ہوا، وہاں ایک بوڑھے بُزُرگ اور اُن کی ایک نوجوان بیٹی کے سوا کوئی نہ تھا، اُس نے ارادہ کیا کہ اُن بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو شہید کر کے ان کی لڑکی پربَمَع مال و دولت قابض ہو جاؤں ، چُنانچِہ اُس نے حملہ کر دیا، مگر وہ بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تو پہلوان نکلے!انہوں نے فوراً اُس نوجوان ڈاکو کو چاروں خانے چِت گرا دیا! ڈاکو کسی طرح آزاد ہو کر پھر حملہ آور ہو گیا مگربُزُرگ پہلوان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دوبارہ حاوی ہو گئے! اِس طرح کُشتی چلتی رہی ، ہر بار وہ ضعیف العمر بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ہی کامیاب ہوتے رہے ، ڈاکو نے محسوس کیا کہ وہ بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آہستہ آہستہ کچھ پڑھ رہے ہیں،اُس نے پوچھا ، کیا پڑھتے ہو ؟ انہوں نے اپنی پہلوانی کا راز فاش کرتے ہوئے مُسکرا کر فرمایا ، میں