مَدَنی انقلاب آ گیا چُنانچِہ اس نے)عرض کی، ''اے عطاء! رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میں نے حَلاوتِ ایمان(یعنی ایمان کی مٹھاس)کو پا لیا اور میرے دل میں نور ظاہِر ہو چکا، میں اس عورت (کے عشق)کو بھول چکا ، مجھے اسلام کے بارے میں آگاہ فرمائیے ۔ سیِّدُنا عطاء رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اُس پر اسلام پیش کیا ۔ اور یہ بسم اﷲ کی بَرَکت سے مسلمان ہو گیا۔ اُدھر اُس یہودَن نے جب اس کی اسلام آوَری کی خبرسُنی تو حضرتِ سیِّدُنا عطاء ُالاکبر علیہ رحمۃ اللہِ الدّاوَر کی بارگاہِ عالی میں حاضِرہو کر عرض گزار ہوئی،'' اے امامَ المسلمین !میں ہی وہ عورت ہوں جس کا تذکِرہ اسلام قَبول کرنے والے یہودی نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کیا اور میں نے گزَشتہ شب خواب دیکھا کہ ایک آنے والا میرے پاس آکر کہنے لگا، ''اگر تو جنّت میں اپنا ٹھکانہ دیکھنا چاہتی ہے تو سیِّدُنا عطاء ُالاکبر علیہ رحمۃ اللہِ الدّاوَر کی خدمت میں حاضِر ہو جا وہ تجھے تیرا ٹھکانہ دکھا دینگے۔'' تو میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگاہ میں حاضِر ہوئی ہوں ارشاد فرمایئے ، '' جنّت کہاں ہے؟'' ارشاد فرمایا،'' اگرجنّت کا ارادہ ہے تو پہلے تجھے اسکا دروازہ کھولنا ہو گا اس کے بعد ہی تُو اس (اپنے ٹھکانے)کی طرف جا سکے گی۔'' عرض کیا ، ''میں اس کا دروازہ کس طرح کھول سکوں گی؟'' ارشاد فرمایا،