بوڑھے شیخ کو جنّات نے قتل کر دیا ہے۔ وہ کہنے لگی، تُو جھوٹ بول رہا ہے۔ اَو بے وفا ! اُس کے قاتِل جنّات نہیں بلکہ تُو خُود ہے۔ یہ کہکر اُس نے بیقرار و اشکبار ہو کر عَرَبی میں پانچ اَشعار پڑھے جن کا ترجَمہ ہے،
(۱) اے میری آنکھ تو اُس بہادُرشَہسُوار پر خو ب رو اور پے دَر پے آنسوبہا ۔ (۲) اے عَمْرْو تیری زندگی پر افسوس ہے، حالانکہ تیرے دوست کو زندگی نے موت کی طرف دھکیل دیا ہے ۔
(۳) اور (اے عَمْرْواپنے دوست کو اپنے ہاتھوں )قتل کرنےکے بعد تُو(اپنے قبیلے)بنی زُبَیدہ اور کُفّار (یعنی ناشکروں)کے گُروہ کے سامنے کس طرح فَخر کے ساتھ چل سکتاہے ۔(۴)مجھے میر ی عُمْر کی قسم!(اے عَمْرْو)اگرتُو لڑنے میں واقِعی سچا ہوتا (یعنی بِغیر دھوکہ دیئے مَردوں کی طرح اس سے مقابلہ کرتا) تو اُس کی طرف سے ضَرور تیزدھار دار تلوار تجھ تک پَہُنچ کر رَہتی (اورتیرا کام تمام کردیتی ) (۵) (اے اُس بوڑھے کو قتل کرنے والے) بادشاہِ حقیقی (اللہ تعالیٰ)تجھے بُرا اور ذِلّت والا بدلہ دے (تیرے جُرم کے بدلے میں )اور تجھے بھی اس کی طرف سے ذِلّت ورُسوائی والی زندگی ملے (جسطرح کہ تونے اپنے دوست کے ساتھ ذِلّت ورُسوائی والا سُلوک کیا ہے)
میں جَھلّا کر قتل کرنے کیلئے اُس پر چڑھ دَوڑا مگر وہ حیرت انگیز طور پر میری نظروں سے اَوجھل ہو گئی گویا اُس کوزمین نے نگل لیا!