| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو شخص مجھ پر درود پاک پڑھنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔
محسوس ہوا کہ ابھی میرا سر اُکھڑکر دَھڑ سے جُدا ہو جائیگا۔ میں نے معذِرت چاہی اور کہا کہ دوبارہ ایسی حَرَکت نہیں کروں گا۔ چُنانچِہ دونوں میں پھر مقابلہ ہوا۔ پُراَسرار بوڑھا اُس کالے جِنّ کو دبوچنے میں کامیاب ہو گیا تو میں نے کہا، ''میرا ساتھی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کی بَرَکت سے غالِب آ گیا۔'' یہ کہنے کی دیر تھی کہ پُراَسرار بوڑھے نے نہایت پُھرتی کے ساتھ اُس کو زمین میں لکڑی کی طرح گاڑ دیا اور پھر اُس کا پیٹ چِیر کر اُس میں سے لالٹین کی طرح کوئی چیز نکالی اور کہا ، ''اے عَمْرْو! یہ اس کا دھوکہ اور کُفْر ہے۔ ''میں نے اُس پُراَسرار بوڑھے سے اِسْتِفسار کیا، آپ کا اور اِس کالے جِنّ کاقِصہ کیا ہے؟ کہنے لگا، ایک نصرانی جِنّ میرا دوست تھا، اُس کی قوم سے ہر سال ایک جِنّ میرے ساتھ جنگ لڑتا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کی بَرَکت سے مجھے فَتْح عطا فرماتا ہے۔
پھر ہم آگے بڑھ گئے ۔ ایک مقام پر وہ پُراَسرار بوڑھا جب غافِل ہو کر سو گیا تو موقع پا کر میں نے اُس کی تلوارچھین کر نہایت پُھرتی کے ساتھ اُس کی پنڈلیوں پر ایک زَور دار وار کیا جس سے دونوں ٹانگیں کٹ کر جسم سے جُدا ہو گئیں،وہ چیخنے لگا،''اَوغدّار !تُو نے مجھے سَخْت دھوکہ دیا ہے ! ''مگر میں نے اُس کو سنبھلنے کاموقع ہی نہ دیا، پَے در پَے وار کر کے اُس کے ٹکڑے ٹکرے کر ڈالے! پھر جب میں خَیمہ میں واپَس آیا تو وہ کنیز بولی، اے عَمْرْو! جِنّ سے مقابلے کا کیا بنا؟ میں نے کہا،