| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پر دس مرتبہ صبح اور دس مرتبہ شام درود پاک پڑھا اُسے قِیامت کے دن میری شفاعت ملے گی۔
''ابو جَمْرَہ ضَبْعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تَمَتُّع حج میں خواب دیکھا ،جس سے (فِقہی مسائل میں ) مذہبِ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تائید ہوئی ۔ ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے (وہ مبارَک خواب سُن کر اپنے مال سے )اُن کا وظیفہ مقرّر کردیا ۔ اور اس روز سے انہیں اپنے ساتھ تخْت پر بٹھانا شروع کیا ۔
(مُلَخَّصاً از صحیح بُخاری ج۲ص۱۸۶ رقم الحدیث۱۵۶۷)
اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
امام بخاری کی والِدہ کاخواب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے دوسروں کو خواب سنانے کے ضِمْن میں صحیح بخاری شریف کے حوالہ سے بھی دورِوایات مُلا حَظہ فرمائیں۔ صحیح بخاری شریف کے مُؤَلِّف حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو عبداللہ محمد بن اسمٰعیل بخاری علیہ رحمۃ اللہ الباری نے نہایت ہی عَرَق ریزی کے ساتھ احادیثِ مبارَکہ کی تَدْوِین فرمائی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ خود فرماتے ہیں ،
''اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
میں نے ''صحیح بخاری '' میں تقریباً چھ ہزار احادیثِ شریفہ ذِکْر کی ہیں، ہر حدیث کو لکھنے سے قبل غسل کر کے دو رَکْعَتَیں نَماز ادا کر لیا کرتا تھا ۔'' آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے والد ِ ماجِدحضرتِ سیِّدُنا شیخ اسمٰعیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بَہُت نیک آدَمی تھے اور آپ کی والِدہ ماجِدہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھا صالحہ اور مُجَابَۃُ الدُّعاء(یعنی وہ خاتون جس کی دعا قَبول ہوتی ہو)تھیں۔ بچپن شریف میں حضرت سیِّدُنا امام بُخاری علیہ رحمۃ اللہِ الباری کی بینائی جاتی رہی۔