''صَفَائِحُ اللِّجَّیْن فِی کَوْنِ تَصَافُحِ بِکَفِّی الْیَدَیْن''
(یعنی چاندی کے پتّر دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے مُصافَحہ کرنے کے بیان میں )تحریر فرمایا ہے، اُس کے صَفَحہ نمبر ۳ پر اپنا وہ خواب مفصَّل طور پر بیان فرمایا ہے جس میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو حضرتِ سیِّدُناامام قاضی خان علیہ رحمۃ الحنّان کی زیارت ہوئی ہے ۔نیز مسلمانوں کو وساوِس سے بچانے اور ان کی معلومات میں اضافہ فرمانے کی خاطر اِسی رِسالہ مُبارَکہ میں لوگوں کے آگے خواب بیان کرنے کے بارے میں دلائل قائم کئے ہیں ۔ چُنا نچِہ مَذکورہ رسالے میں فرماتے ہیں ،
احادیثِ صَحِیْحَہ سے ثابِت حضور ِ اقدس سیِّد عالَم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اِسے (یعنی خواب کو )اَمْرِ عظیم جانتے اور اس کے سُننے ،پوچھنے ،بتانے ،بیان فرمانے میں نہایت دَرَجے کااِہْتِمام فرماتے ۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرتِ سَمُرہ بن جُنْدَب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے ،حضور پُر نور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نمازِ صُبْح پڑھ کر حاضِرین سے دریافت فرماتے ،''آج کی شب کسی نے کوئی خواب دیکھا ؟'' جس کسی نے دیکھاہوتا عرض