بِالفرض کوئی جھوٹا خواب گڑھ کر سناتا بھی ہے تو اِس کا وہ خود ہی ذمّہ دار ، سخت گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحْبوب، دانائے غُیُوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے،'' جو جھوٹا خواب بیان کرے اُسے بروزِ قِیامت جَوکے دو دانوں میں گانٹھ لگانے کی تکلیف دی جائیگی اور وہ ہرگز گانٹھ نہیں لگاپائے گا۔''
(صحیح بخاری ج ۸ص۱۰۶ رقم الحدیث ۷۰۴۲)
بے سوچے سمجھے بول پڑنے والوخبردار
ایک اور حدیثِ پاک میں ہے، ایک شخص ایسا کلام کرتا ہے جس میں وہ غور و فِکْر نہیں کرتا (حالانکہ یہ گفتگو جھوٹ،غیبت، عیب جُوئی یا من گھڑت خواب وغیرہ حرام پر مَبنی ہوتی ہے )تو وہ اِس بات کے سبب جہنَّم میں اس مقدار سے بھی زیادہ گرے گا جس قَدَر مشرق و مغرب کے درمیان فاصِلہ ہے۔
(صحیح بخاری ج۷ص۲۳۶ رقم الحدیث ۶۴۷۷)
خواب سنانے والے سے قَسَم کا مطالَبہ شرعاً واجِب نہیں اور جو
جھوٹاہو گا، ہوسکتا ہے وہ جھوٹی قسم بھی کھالے۔