(صحیح بخاری شریف ج ۶ ص ۱۶۶ رقم الحدیث۵۱۴۳)
میرے آقا اعلیٰحضرت علیہ رحمۃُ ربّ العزّت فتاویٰ رضویہ شریف میں نَقْل کر تے ہیں ، حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ
عَلیٰ نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَالسَّلام
نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھ لیاتو فرمایا، کیا تُو نے چوری نہیں کی؟ اُس نے کہا، خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نے چوری نہیں کی، یہ سُن کر آپ علیہ السّلام نے فرمایا،واقِعی تو نے چوری نہیں کی میری آنکھوں نے دھوکہ کھا یا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حِکایت سے اِحتِرامِ مسلم کی اَھَمِّیَّت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ کہ شرِیْعَت کے دائرہ میں رہتے ہوئے مسلمان کی پردہ پوشی کی جائے یہ نہ ہو کہ بے سبب اُس پر بدگُمانی کا دروازہ کھول کر اُسے جُھوٹا اورگَپّی وغیرہ قرار دیکر اپنی آخِرت کو داؤ پر لگاتے ہوئے