| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفٰے:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم )جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اس نے مجھ پر دُرُود شریف نہ پڑھا اُس نے جفاء کی۔
خواب میں زیارت کا دعویٰ کرے اُس پر آنکھیں بند کرکے اعتِماد نہیں کرنا چاہے کم ازکم اُس سے قسم تو لینی ہی چاہے۔ علاجِ وَسوَسہ:صحیح بخاری شریف کی سب سے پہلی حدیث ہے ،
اِنَّمَا الْاَ عْمالُ بِالنِّیّات
یعنی اعمال کادا ر ومدار نیّتوں پر ہے ۔تو اگر کوئی حُبِّ جاہ کے باعِث لوگوں کو اپنا خواب سناتا ، اپنی شہرتْ اورواہ واہ چاہتا ہے تو واقِعی مجرِم ہے۔اوراگر اچّھی نیّت سے سناتا ہے، مَثَلاً دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیّت کے مَدَنی قافِلے میں خوش قسمتی سے کسی نے اچّھا خواب دیکھااب وہ اس لئے سنا رہا ہے تا کہ اِس گئے گزرے دور میں لوگوں کو راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں سفر کی ترغیب ملے اورانہیں اطمینان کی دولت نصیب ہو کہ دعوتِ اسلامی اہلِ حق اور عاشِقانِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتّوں بھری تحریک ہے اور یوں اِس سے وابَستہ ہو کر اپنے ایمان کی حفاظت کا سامان کریں۔یہ نیّت محمود ہے اور اس نیّت سے خواب سُنانے والے کو
اِن شاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ
ثواب ملیگا۔نیز تَحْدیثِ نعمت یعنی نعمت کا چرچا کرنے کی نیّت سے سناتا ہے تب بھی جائز ہے۔ ہاں اگر رِیا کاری کا خوف ہو تو اپنا نام ظاہِر نہ کرے کہ اس میں زیادہ عافیت ہے۔بَہَرحال دل کی نیّت کا حال اللہ ذوالجلال عَزَّوَجَلَّ جانتا ہے، مسلمان کے بارے میں بِلا وجہ بدگُمانی کرنا حرام اور جہنَّم میں لے جانے والا کام ہے،بدگُمانی کی