میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ سب یقینِ کامِل کی بَہاریں ہیں ، اگر اعْتِقادْمُتَزَ لْزِل ہو تو اِس طرح کے نَتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ ''یقینِ کامل'' سے متعلِّق حُجَّۃُ الْاِسْلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمّد غزالی علیہ رحمۃالوالی نے سورہ یوسف کی تفسیر میں ایک انتِہائی سبق آموز حِکایت نقْل کی ہے ۔ چنانچِہ ایک مرتبہ بغدادِ مُعَلّٰی میں ایک شخص نے کھڑے ہو کر لوگوں سے ایک دِرْھَم کاسُوال کیا ، مشہور مُحَدِّث حضرت سیِّدُنا ابنِ سَمّاک رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ، تم کو کون سی سُورۃ اچّھی طرح یاد ہے ؟ اُس نے کہا ، سورۃُ الفاتِحہ۔ فرمایا ، ایک بار پڑھ کر اُس کا ثواب میرے ہاتھ بیچ دو ،میں اِس کے بدلے اپنی ساری دولت تمھارے حوالے کر دوں گا ! سائل کہنے لگا، حضرت ! میں مجبور ہو کر ایک دِرْھَم کا سُوال کرنے آیا ہوں، قراٰن بیچنے نہیں آیا ۔ یہ کہہ کر وہ سائل قبرِستان کی طرف چلا گیا ، بارِش شروع ہو گئی حتّٰی کہ اَولے برسنے لگے، وہ ایک چَھجّے کے نیچے پناہ لینے کیلئے لپکا ،وہاں سبز لباس میں ملبوس ایک سُوارپہلے ہی سے موجود تھا اُس نے کہا ، تم نے ہی سورۃُ الفاتِحہ کا ثواب بیچنے سے انکار کیا تھا؟ کہا ، جی ہاں ۔ سُوار نے اُس کو دس ھزار دِرْھَم کی تَھیْلی دی اور کہا، ان کو خرچ کرو خَتْم ہونے پر