| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پرروزِ جُمُعہ دو سو بار دُرُود پاک پڑھا اُس کے دو سو سال کے گناہ مُعاف ہوں گے۔
بسم اﷲکے سات حُرُوف کی نِسبت سے سات حکایات (۱)لکڑھارا کیسے مالدار بنا؟
ایک لکڑہارا روزانہ دریا پار جا کر لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور بیچ کر اپنے بال بچّوں کا پیٹ پالتا۔ پُل چُونکہ اُس کے گھر سے کافی دور تھا اس لئے آنے جانے میں کافی وَقْت صَرْف ہو جاتااور یوں مالی طور پر وہ مُستَحْکَم(مُس۔ تَح۔ کَم) نہیں ہو پاتا تھا ۔ ایک دن اُس نے مسجِد کے اندر مُبلِّغ کے بیان میں
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کے عظیم الشّان فضائل سُنے۔ مبلّغ کی یہ بات اُس کے ذِہْن میں بیٹھ گئی کہ بسم اﷲ شریف کی بَرَکت سے بڑے سے بڑا مسئلہ(مَسْ۔ءَ ۔لَہ)حل ہو سکتا ہے ۔ چُنانچِہ جب جنگل میں جانے کا وَقْت ہوا تو پُل پر جانے کے بجائے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھ کر وہ دریا میں اُتر گیا اور چلتا ہوا جلد ہی آسانی کے ساتھ دوسرے کَنارے پَہُنچ گیا، لکڑیاں کاٹنے کے بعد اُس نے پھر اِسی طرح کیا۔ بسم اﷲ کی بَرَکتوں کا ظُہُور ہونے لگا اور تھوڑے ہی عرصے میں وہ مالدار ہو گیا ۔
(مُلَخَّص از شَمسُ الواعِظین)
ہے پاک رُتبہ فِکر سے اُس بے نیاز کا
کچھ دَخْل عقْل کا ہے نہ کام امتیاز کا (ذوقِ نعت)صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد