Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
13 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس نے مجھ پرروزِ جُمُعہ دو سو بار دُرُود پاک پڑھا اُس کے دو سو سال کے گناہ مُعاف ہوں گے۔
میرے سَر کے اگلے حصّے کی چوٹی کاٹ ڈالی اور مجھے چھوڑ دیا۔ ہم عَرَبوں میں رَواج ہے کہ جب کسی کی چوٹی کے بال کاٹ دیئے جاتے ہیں تو وہ دوبارہ اُگنے سے قَبل اپنے گھروالوں کو منہ دکھاتے ہوئے شرماتا ہے۔ (کیوں کہ چوٹی کٹ جانا شکست خُوردہ کی علامت ہے)چُنانچِہ میں ایک سال تک اُس پُراَسرار بوڑھے کی خدمت کا پابند ہو گیا۔ 

    سال پورا ہو جانے کے بعد وہ مجھے ایک وادی میں لے گیا۔ وہاں اُس نے بُلند آواز سے
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
پڑھی تو تمام پَرندے اپنے گھونسلوں سے باہَر نکل کر اُڑ گئے، دوبارہ اِسی طرح پڑھنے پر تمام دَرِندے اپنی اپنی پناہ گاھوں سے باہَر چلے گئے ۔ پھر تیسری بار زور سے پڑھنے پر اُونی لباس میں ملبوس کَھجور کے تنے جِتنا لمبا خوفناک کالا جِنّ ظاہِر ہو ا، اُس کو دیکھ کر میرے بَدَن میں جُھر جُھری کی لہر دوڑ گئی۔ پُراَسرار بوڑھے نے کہا، اے عَمْرْو! ھمّت رکھ، اگر یہ مجھ پر غَلَبہ پا لے تو کہنا ، اب کی بار میرا ساتھی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کی بَرَکت سے غالِب ہو گا!'' پھروہ پُراَسرار بوڑھا اور کالا جِنّدونوں گُتَّھم گُتّھا ہو گئے ، پُراَسرار بوڑھا ہا ر گیا اور کالا جِنّ اُس پر غالِب آ گیا۔ اِس پر میں نے کہا، ابکی بار میرا ساتھی لات و عُزّٰی(یعنی کافِروں کے ان دونوں بُتوں)کی وجہ سے جِیت جائے گا۔ یہ سُن کر پُراَسرار بوڑھے نے مجھے ایسا زور دار طمانچہ رسید کیا کہ مجھے دن دِہاڑے تارے نظر آ گئے اور ایسا
Flag Counter