| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جس کے پاس میرا ذکر ہوا اور اُس نے مجھ پر درودِ پاک نہ پڑھا تحقیق وہ بد بخت ہوگیا۔
پھول جَھڑنے لگے ، الفاظ کچھ یوں ترتَیب پائے،دِیوانے !مَدَنی قافِلہ میں بارہ مُسافِر ہیں ،ان کے لئے چائے کا انتِظام کرکے فوراًروشنی لیکر باہَر کھڑے ہوجاؤ ۔میں نے دم زَدن میں خیر خواہی کی ترکیب کی اور روشنی لیکر باہَر نکل آیا کہ اتنے میں عاشِقانِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مَدَنی قافِلہ بھی آپہنچا ۔
سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کھانا کھلایا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس واقِعہ سے جہاں علمِ غیبِ ماہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا معلوم ہوا وہاں دعوتِ اسلامی کی حقّانیّت اور بارگاہِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں مقبولیَّت کا بھی پتا لگا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ
ہمارے میٹھے میٹھے مَدَنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ واٰ لہٖ وسلَّم اپنے غلاموں کو ہر وَقْت اپنی نظرمیں رکھتے ہیں، مصیبت میں پھنس جانے کی صورت میں امداد فرماتے اور بھوکوں کو کھانا کِھلاتے ہیں، چُنانچِہ حضرت امام یوسُف بن اسمٰعیل نبہانی
قُدِّسَ سرُّہُ الرَّبّانی
نَقْل کرتے ہیں، حضرتِ شیخ ابو العباّس احمد بن نفیس تُونِسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، میں ایک بار مدینہ منوَّرہ میں سخْت بھوک کے عالَم میں سرکارِ عالی وقار ،مکّے مدینے کے تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مزارپُر انوار پر حاضِر ہو کر عرض گزار ہوا، یارسولَ اللہ ! عَزَّوَجَلَّ و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم