اس پریشانی میں نہ جانے کتنا وَقْت گزر گیا،یکایک اُسی سَمْت پھر روشنی نُمُودار ہوئی ۔ہم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لیکر ہمّت کی اور ایکبار پھر آبادی کی اُمّید پر روشنی کی جانِب تیز تیزقدم چل پڑے۔ جب قریب پہنچے تو ایک شخص روشنی لئے کھڑا تھا،وہ نہایت پُرتپاک طریقے پرہم سے ملا اور ہمیں اپنے مکان میں لے گیا ، عاشِقانِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مَدَنی قافِلے کے بارہ مُسافِروں کی تعداد کے مطابِق12کپ موجود تھے اور چائے بھی تیّار ۔اُس نے گَرْم گَرْم چائے کے ذَرِیعے ہماری ''خیر خواہی '' کی ۔ہم اِس غیبی امداد اور پورے بارہ کپ چائے کی پہلے سے تیّاری پر حیران تھے۔ اِسْتِفْسار پر ہمارے اجنبی میزبان نے انکِشاف کیا کہ میں سویاہوا تھا کہ قسمت انگڑائی لیکر جاگ اُٹھی ، جنابِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میرے خواب میں تشریف لائے اور کچھ اِس طرح ارشاد فرما یا ، ''دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلے کے مسافِر راستہ بھول گئے ہیں ان کی رہنُمائی کیلئے تم روشنی لیکر باہَر کھڑے ہوجاؤ ۔'' میری آنکھ کُھل گئی اور بتّی لیکر باہَر نکل پڑا ۔ کچھ دیر تک کھڑا رہا مگر کچھ نظر نہ آیا ،وَسوسہ آیا کہ شاید غَلَط فَہمی ہوئی ہے، آنکھوں میں نیند بھری ہوئی تھی ،گھر میں داخِل ہوکر پھر سَورہا ،سر کی آنکھ بند ہوتے ہی دل کی آنکھ واپَس کُھل گئی اور پھر ایکبار مدینے کے تاجدارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا چہرہ نور بار نظر آیا ،لَبہائے مُبارَکہ کو جُنبِش ہوئی اور رَحْمت کے