ایک عاشقِ رسول کے بیان کا اپنے انداز و اَلفاظ میں خُلاصہ پیشِ خدمت ہے ، ہمارا مَدَنی قافِلہ سنّتوں کی تربیّت لینے کے لئے حَیْدَرآباد (بابُ الاسلام سندھ)سے صوبہ سرحد پہنچا ۔ ایک مسجِد میں تین دن گزارکر دوسرے عَلاقے کی طرف جاتے ہوئے راستہ بھول کر ہم جنگل کی طرف جا نکلے ، رات کی سیاہی ہر طرف پھیل چُکی تھی ، دُور دُور تک آبادی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا، لمحہ بہ لمحہ تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا،اتنے میں اُمّید کی ایک کرن پھوٹی اور کافی دُور ایک بتّی ٹِمٹِماتی نظر آئی ،خوشی کے مارے ہم اُس سَمْت لپکے مگر آہ!چند ہی لمحوں کے بعد وہ روشنی غائب ہوگئی ،ہم ٹِھٹَھک کر کھڑے کے کھڑ ے رَہ گئے،ہماری گھبراہٹ میں ایک دم اِضافہ ہوگیا ! کیا کریں ،کیا نہ کریں اور کس سَمْت کو چلیں کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ آہ!آہ!آہ!