Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
120 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قِیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا۔
قلم سے تھا جس سے قراٰنی حُرُوف (عَرَبی زَبان کے سارے جبکہ فارسی اور اردو کے اکثر حُرُوف قُراٰنی ہیں)لکھے جاتے ہیں اس لئے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر لگے ہوئے اُس نُقطے کے ساتھ وہاں بیٹھنا اَدَب کے خِلاف تھا، حالانکہ بَہُت شدّت سے پَیشاب کی حاجت تھی مگر اُس تکلیف کے مقابلے میں اِس بے اَدَبی کی تکلیف بَہُت زیادہ تھی لھٰذا فوراً باہَر آ کر سیاہی کے نُقطے کو دھوکر پھر گیا۔
( زُبدَۃُ الْمقَامات ص ۱۸۰)
دیواروں پر  اِشتہارنہ  لگائیں
اللہ !اللہ! سلسلہ عالِیَّہ نَقْشْبَنْدِیَّہ کے عظیم پیشوا حضرتِ مُجدِّد اَلْفِ ثانی
علیہ رَحمَۃُ الرَّبّانی
قَلَم کی سیاہی  (ink)
کے نُقطے کابھی اِس قَدَر اَدَب فرماتے تھے جبکہ ہمارے یہاں حالت یہ ہے کہ لکھنے کے دَوران لگی ہوئی سیاہی کے نشانات دھو کر عُموماً  گَٹر میں بہا دیا جاتا ہے اور ناقابلِ استِعمال ہو جانے پر قلم اور اس کے اَجْزاء کو پہلے کچرے کے ڈِبّے میں ڈالتے اور بعد میں کچرا کُونڈی کی نَذْر کر دیتے ہیں۔بلیک بورڈ پر چاک  (CHALK)
کی عام لِکھائی کُجا اکثر احادیثِ مبارَکہ لکھنے والے بھی بِلا تکلُّف صافی سے پُونچھ کر چاک کے ذرّات کے اَدَب کا بالکل بھی خیال نہیں کرتے ۔ حُقوق الْعِباد کی مُطْلَق پرواہ کئے بِغیر دیواروں پر ''چاکِنگ'' کی جاتی اور دُنیوی یا دِینی لِکھائی والے اِشتِہارات دوسروں کے سائن بورڈوں اور لوگوں کے گھروں یا دُکانوں وغیرہ کی دیواروں پر بِلا اجازتِ مالکان لگا دیئے جاتے ہیں جو کہ مالِک کو ناگوار گزرنے کی صورت میں حرام اور جہنَّم میں لے جانے والے کام ہیں۔
Flag Counter