Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
119 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جب تم مُرسلین (علیھم السلام )پر دُرُود پاک پڑھو تو مجھ پر بھی پڑھو بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں ۔
ہو۔(جب تَراشہ کااحتِرام ہے تو خود مُسْتَعْمَل قَلَم کا کتنا احتِرام ہو گا یہ ہر ذی شُعُور سمجھ سکتا ہے۔)نیز جس کاغذ پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لکھا ہو اُس میں کوئی چیز رکھنا مکروہ ہے اور تھیلی پر اسمائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ لکھے ہوں اس میں روپیہ پیسہ رکھنا مکروہ نہیں۔ کھانے کے بعد اُنگلیوں کو کاغذسے پُونچھنا مکروہ ہے۔
 (بہار ِشریعت حصّہ ۱۶ ص ۱۱۹، مدینۃ المرشد بریلی شریف ، عالمگیری)
ٹِشو پیپر سے ہاتھ پونچھنے ،جہاں مفت ڈَھیلے وغیرہ دستیاب نہ ہوں وہاں ٹائلیٹ پیپر سے جائے اِستِنجاء خشک کرنے کی عُلَماء اجازت دیتے ہیں کیوں کہ یہ اسی کام کیلئے ہے اس پر کچھ لکھا نہیں جاتا ۔ جبکہ کاغذ لکھنے کیلئے بنائے جاتے ہیں۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !            صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
سیاہی کے نُقطے کاادب
حضرتِ سیِّدُنا محمد ہاشِم کشمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم پیشوا حضرتِ سیِّدُنا مُجدِّد اَلْفِ ثانی
علیہ رحمۃُ الرَّباّنی
کی خدمت میں حاضِر تھا۔ آپ تحریری کام کر رہے تھے ، ضَرورتاً بَیتُ الْخَلاء گئے مگر فوراً واپَس آکر پانی کا لوٹا منگوا کر بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کا ناخُن شریف دھویا، پھر بَیتُ الْخَلاء تشریف لے گئے۔ بعدِ فراغت جب تشریف لائے تو فرمایا، بَیتُ الْخَلاء میں جُوں ہی بیٹھا کہ میری نظر بائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخُن کی پُشت پر پڑی جس پرقَلم کا امتحان کرتے وَقْت کا (یعنی قلم کو چیک کرنے کیلئے کہ کام کر رہا ہے یا نہیں اُس موقع کا)سیاہی  (ink)
کانُقْطہ لگا ہوا تھا۔ چُونکہ یہ اُسی
Flag Counter