Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
118 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر دُرُود شریف پڑھو اللہ تعالی تم پر رحمت بھیجے گا۔
چُونکہ لفظِ '' ابوجَہْل''کے تمام حُرُوفِ تَہجَّی (اب و ج ہ ل)قُراٰنی ہیں۔ اِس لئے لکھے ہوئے لفظِ''ابوجَہْل'' کی (نہ کہ شخصِ ابوجَہْل کی)ان معنوں کر تعظیم ہے کہ اُس کو ناپاک یا گندی جَگہوں پر ڈالنے اور جُوتے مارنے وغیرہ کی اجازت نہیں۔ اِس سے وہ لوگ عبرت حاصِل کریں جو اخبارات کو بطورِ پُڑیا استِعمال کرتے اور پھر مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ وہ اخبارات بے اَدبیوں کے مختلف مراحِل مَثَلاً مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ گھر کے کچرا ڈالنے کے ڈبّے ، گلیوں میں قدموں تلے روندے جانے گندگیوں اور طرح طرح کی آلودگیوں سے دو چار ہو نے کے بعد با لآخر کچرا کونڈی میں جا پہنچتے ہیں، نیز بعض لوگوں کی یہ نامعقول عادت ہوتی ہے کہ چلتے چلتے راہ میں پڑے ہوئے لکھائی والے خالی ڈِبّوں،اخبارات اور کاغذات وغیرہ کو مَعاذَاللہ عَزَّوَجَلَّ لاتیں مارتے ہیں۔حالانکہ ثواب تو اس میں ہے کہ تحریروں والے کاغذات اور گتّے اٹھا کر اَدَب کی جگہ رکھے جائیں یا ٹھنڈے کئے جائیں۔ بَہَرحال لاتیں مارنے اور اِدھر اُدھر پھینکنے،اخبارات یالکھے ہوئے کاغذات سے مَیز یا برتن وغیرہ صاف کرنے ، ہاتھ پُونچھنے، ان پر پاؤں رکھنے نیز اخبارات وغیرہ بچھا کر اس کے اوپر بیٹھنے وغیرہ سے بچنا بَہُت ضَروری ہے۔
قلم کی چھِیلَن
''بہارِ شریعت ''میں ہے، نئے قَلَم کا تَراشہ(یعنی چِھیلَن)اِدھر اُدھر پھینک سکتے ہیں مگر مُسْتَعْمَل (یعنی اِستِعمال شدہ ) قلم کا تَراشہ ایسی جگہ نہ پھینکا جائے کہ احتِرام کے خِلاف
Flag Counter