Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
117 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) جس نے یہ کہا ،جزی اللہ عنّا محمّدا مّا ھو اھلہ،ستر فِرِشتے ایک دن تک اس کیلئے نیکیاں لکھتے رہیں گے۔
نام اُونچا کرتا ہوں۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نامِ پاک کا اَدَب کرنے سے مجھے وہ مقام حاصل ہوا جو سو سال کی عبادت و رِیاضت سے بھی حاصل نہ ہو سکتا تھا!''
(مُلَخَّص از حضراتُ القُدس ،دفتر دوم ص ۱۱۳ مکاشَفہ نمبر ۳۵)
سادہ کاغذ کا بھی ادب
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم پیشواحضرتِ سیِّدُناشیخ احمد سر ھندی المعروف مُجدِّد اَلْفِ ثانی
علیہ رحمۃُ الرَّباّنی
سادہ کاغذ کا بھی احتِرام فرماتے تھے چُنانچِہ ایک روز اپنے بچھونے پر تشریف فرماتھے کہ یکا یک بے قرار ہو کر نیچے اُتر آئے اور فرمانے لگے ، معلوم ہو تا ہے، اِس بچھونے کے نیچے کوئی کاغذ ہے۔
راہ چلتے ہوئے کاغذات کو لات مت ماریئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا، سادہ کاغذ کا بھی اَدَب ہے اور کیوں نہ ہو کہ اِس پر قراٰنِ و حدیث اور اسلامی باتیں لکھی جاتی ہیں ۔
اَلْحَمْدُ ﷲ عَزَّوَجَلَّ
بیان کردہ حکایت میں حضرت سیِّدُنا مُجدِّد اَلْفِ ثانی
علیہ رحمۃُ الرَّباّنی
کی کُھلی کرامت ہے کہ بچھونے کے نیچے کے کاغذ کا ظاہری طور پر بن دیکھے پتا چل گیا اور آپ نیچے اُترآئے تا کہ غلاموں کو بھی کاغذات کے اَدَب کی ترغیب ملے۔''بہار ِشریعت'' میں ہے ، کاغذ سے اِستِنجاء مَنْع ہے اگر چِہ اُس پر کچھ بھی نہ لکھا ہو یا ابوجَہْل ایسے کافِر کا نام لکھا ہو۔
(حصّہ ۲ ص ۱۱۴مطبوعہ مدینۃُ المرشِد، بریلی شریف )
Flag Counter