سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم پیشواحضرتِ سیِّدُناشیخ احمد سر ھندی المعروف مُجدِّد اَلْفِ ثانی
سادہ کاغذ کا بھی احتِرام فرماتے تھے چُنانچِہ ایک روز اپنے بچھونے پر تشریف فرماتھے کہ یکا یک بے قرار ہو کر نیچے اُتر آئے اور فرمانے لگے ، معلوم ہو تا ہے، اِس بچھونے کے نیچے کوئی کاغذ ہے۔
راہ چلتے ہوئے کاغذات کو لات مت ماریئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا، سادہ کاغذ کا بھی اَدَب ہے اور کیوں نہ ہو کہ اِس پر قراٰنِ و حدیث اور اسلامی باتیں لکھی جاتی ہیں ۔
اَلْحَمْدُ ﷲ عَزَّوَجَلَّ
بیان کردہ حکایت میں حضرت سیِّدُنا مُجدِّد اَلْفِ ثانی
کی کُھلی کرامت ہے کہ بچھونے کے نیچے کے کاغذ کا ظاہری طور پر بن دیکھے پتا چل گیا اور آپ نیچے اُترآئے تا کہ غلاموں کو بھی کاغذات کے اَدَب کی ترغیب ملے۔''بہار ِشریعت'' میں ہے ، کاغذ سے اِستِنجاء مَنْع ہے اگر چِہ اُس پر کچھ بھی نہ لکھا ہو یا ابوجَہْل ایسے کافِر کا نام لکھا ہو۔
(حصّہ ۲ ص ۱۱۴مطبوعہ مدینۃُ المرشِد، بریلی شریف )