Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
116 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قیراط اجر لکھتا ہے اور قیراط احد پہاڑ جتنا ہے ۔
اجتماع کی مغفِرت ہو جائے۔ یہ سُن کر آقا نے کہا،تین باتیں جو میرے اختیار میں تھیں وہ کر لی ہیں چوتھی سب کی مغفِرت والی بات میرے اختیار سے باہَر ہے۔اُسی رات آقا نے خواب میں کسی کہنے والے کو سنا ، جو تمہارے اختیار میں تھا وہ تم نے کر دیا۔ اور میں
اَرْحَمُ الرَّاحِمِین
ہوں میں نے تمہیں، تمہارے غلام کو ، منصور کو اور تمام حاضِرین کو بخْشْ دیا۔
 (روضُ الرِّیاحین ص ۲۲۲،۲۲۳)
اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو ۔ 

      دعائے ولی میں وہ تاثیر دیکھی         بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                صلّٰی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
مِٹی کا شکستہ پیالہ
سلسلہ عالِیَّہ نَقْشْبَنْدِیَّہ کے عظیم پیشواحضرتِ سیِّدُنا مُجدِّد اَلْفِ ثانی
قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّبّانی
نے ایک دن عام بَیتُ الْخَلا میں بھنگی کاصَفائی کیلئے رکھا ہوا گندگی سے آلودہ کونا ٹوٹا ہوا بڑا سا مِٹّی کا پِیالہ مُلا حَظہ فرمایا، غور سے دیکھا تو بیتاب ہو گئے کیونکہ اُس پیالے پرلَفْظْ، اللہ کَنْدَہ تھا ! لپک کرپِیالہ اُٹھالیا اور خادِم سے پانی کا آفتابہ (یعنی ڈھکَّن والا دَستہ لگا ہوا لوٹا)منگوا کر اپنے دستِ مبارَک سے خوب مَل مَل کر اچّھی طرح دھو کر اُس کو پاک کیا، پھر ایک سفید کپڑے میں لپیٹ کر اَدَب کے ساتھ اُونچی جگہ رکھدیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اُسی پِیالے میں پانی پیا کرتے ۔ ایک دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اِلْہام فرمایا گیا ،'' جس طرح تم نے میرے نام کی تَعظِیم کی میں بھی دنیا وآخِرت میں تمھارا
Flag Counter