Brailvi Books

فیضانِ بسم اللہ
115 - 167
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم)مجھ پر کثرت سے دُرُود پاک پڑھو بے شک تمہارا مجھ پر دُرُود پاک پڑھنا تمہارے گناہوں کیلئے مغفرت ہے۔
گا۔ اُس وَقْت وہاں سے ایک غلام گزر رہا تھا ایک ولی  کامِل کی رَحْمت بھری آواز سُن کراُس کے قدم تَھم گئے اور اُس کے پاس جو چار دِرْہم تھے وہ اس نے سائل کو پیش کر دئیے۔ حضرتِ سیِّدُنا منصور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا، بتاؤکون کون سی چار دعائیں کروانا چاہتے ہو؟ عرض کیا ، (۱) میں غلامی سے آزاد کر دیا جاؤں(۲) مجھے ان دَراہم کا بدلہ مل جائے۔(۳) مجھے اور میرے آقا کو توبہ نصیب ہو (۴) میری ، میرے آقا کی ، آپ کی اور تمام حاضِرین کی بخشش ہو جائے۔ حضرت سیِّدُنا منصور بن عمّار علیہ رحمۃ الغفار نے ہاتھ اُٹھا کردعاء فرما دی۔ غلام اپنے آقا کے پاس دیر سے پہنچا۔ آقا نے سببِ تاخیر دریافت کیا تو اُس نے واقِعہ کہہ سنایا، آقا نے پوچھا ،پہلی دعاء کون سی تھی؟ غلام بولا، میں نے عرض کیا ، دعا کیجئے میں غلامی سے آزاد کر دیا جاؤں ۔ یہ سُن کر آقا کی زَبان سے بے ساخْتہ نکلا،''جا تو غلامی سے آزاد ہے۔'' پوچھا، دوسری دعاء کون سی کروائی ؟ کہا،جو چار درہم میں نے دیدیئے ہیں اُس کا نِعْمَ الْبَدَل مل جائے۔ آقا بول اُٹھا، میں نے تجھے چار درہم کے بدلے چار ہزار درہم دئیے ۔ پوچھا، تیسری دعاء کیا تھی؟ بولا، مجھے اور میرے آقا کو گناھوں سے توبہ کی توفیق نصیب ہو جائے۔ یہ سنتے ہی آقا کی زَبان پر اِستِغفار جاری ہوگیا اور کہنے لگا، میں اللہ عَزَّوّجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔ چوتھی دعاء بھی بتا دو ، کہا، میں نے التِجاء کی کہ میری ، میرے آقا کی ، آپ جناب کی اور تمام حاضِرینِ
Flag Counter