| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفےٰ:(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) جس نے کتاب میں مجھ پر درود پاک لکھا تو جب تک میرا نام اُس میں رہے گا فرشتے اس کیلئے استغفار کرتے رہیں گے۔
ابھی ولادت بھی نہیں ہوئی تھی اس لئے یہ غیب کی خبر سن کر) عرض کیا گیا ، عبد القادِر جیلانی کون ؟ حضرتِ سیِّدُنا شیخ ہوار علیہ رحمۃ الجبّار نے جواباً ارشاد فرمایا، '' ایک عَجَمی ''شریف'' ہو نگے ( اہلِ عَرَب کے یہاں ساداتِ کرام کو''شریف ''اور'' حَبیب'' بولتے ہیں جبکہ جناب کی جگہ لفظ ''سیِّد'' استِعمال کیا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ ایک غیر عَرَبی سیِّد صاحِب)جو کہ بغداد شریف میں قیام فرمائیں گے، ان کاظُہُور پانچویں صَدی ہِجری میں ہو گا اور وہ صِدّیقین (یعنی اولیائے کرام کی سب سے اعلیٰ قسم)سے ہوں گے۔''اَوتاد وہ افراد ہیں جو دنیا کے سردار اور زمین کے قُطُب ہیں۔
(بَہْجَۃُ الْاَسرار مترجم ۳۸۵ پرو گریسو بکس)
اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
کسی خِطّہ زمین یعنی شہر وغیرہ کا انتِظام جس ولیُّ اللہ کے سِپُرْد(سِ۔پُرْدْ)ہو اُس کو قُطْب کہتے ہیں۔چار دُعاؤں کی حِکایت
بسم اللہ شریف کی تحریر والے کاغذ کی تعظیم کی بَرَکت سے حضرتِ سیِّدُنا منصور بن عمّار علیہ رحمۃ الغفّار کا شمار اولیائے کبار سے ہونے لگا ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نیکی کی دعوت کی دھومیں مچاتے تھے، لا تعداد افرادبصد عقیدت آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا بیان سننے آتے تھے ۔ ایک بار آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اجتِماع میں کسی حقدار نے چار دِرْہم کا سُوال کیا، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اعلان فرمایا، جو اس کو چار دِرْہم دے گا میں اُس کے لئے چار دعائیں کروں