لکھا تھا۔ اُنہوں نے اَدَب سے رکھنے کی کوئی مناسب جگہ نہ پائی تو اُسے نگل لیا ۔رات خواب دیکھا کوئی کہہ رہا ہے، اِس مقدّس کاغذ کے احتِرام کی بَرَکت سے اﷲ ربُّ العزّت
نے تجھ پر حکمت کے دروازے کھول دیئے۔
(الرسالۃُالقُشَیرِیّۃ ص ۴۸)
اﷲ عَزَّوّجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے !
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
لکھے ہوئے کاغذ کو اٹھا کر اس کی تَعظِیم کرنے والے کو اللہ عَزَّوّجَلَّ نے توبہ کی توفیق دیکر وِلایت کا رُتبہ عنایت فرما کر اَوتادکے عظیم منصب سے سرفراز فرما دیا جیسا کہ '' بَہْجَۃُ الْاَسرار شریف میں ہے، حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابوبکر بن ہوا ر علیہ رحمۃ الجبّار فرماتے ہیں، عراق کے اَوتاد سات ہیں،(۱) حضرتِ سیِّدُنا شیخ معرو ف کرخی(۲) حضرتِ سیِّدُنا شیخ امام احمد بن حنبل (۳) حضرتِ سیِّدُنا شیخ بِشرِحافی(۴) حضرتِ سیِّدُنا شیخ منصور بن عمار (۵) حضرتِ سیِّدُنا شیخ جُنید (۶) حضرتِ سیِّدُنا شیخ سَہل بن عبدُاللہ تُسْتَری (۷) حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدا لقادِر جیلانی رحمہم اللہ تعالیٰ (ہمارے غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی