ایک شخص نے حاضر ہوکرعرض کی:حضور! فلاں پریشانی سے دوچار ہوں، تعویذ مرحمت فرمادیجئے، مدرسہ کے مہتمم رئیس القلم حضرت علامہ ارشد القادری صاحب نے اس شخص سے فرمایا: گاڑی کا ٹائم ہو چکا ہے اور تم ابھی تعویذ کے لیے بول رہے ہو! حضور مفتی اعظم رحمۃ اللہ الاکرم نے علامہ زید مجدہ ۱ ؎ کو اس شخص کو روکنے سے منع فرمایا۔ علامہ صاحب نے عرض کی: حضور! گاڑی چھوٹ جائیگی۔ اس پر حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ نے خوف خدا عزوجل سے سرشار اوردکھیاری امت کی دلجوئی میں بے قرار ہوکر جو جواب دیا وہ سنہری حرفوں سے لکھنے کے قابل ہے چنانچہ فرمایا: ''چھوٹ جانے دو،دوسری ٹرین سے چلا جاؤں گا۔ کل قیامت کے دن اگر خداوند کریم جل جلالہ نے پوچھ لیا کہ تونے میرے فلاں بندے کی پریشانی میں کیوں مدد نہیں کی؟ تو میں کیا جواب دوں گا!'' یہ فرما کر رکشہ سے سارا سامان اتروا لیا۔