میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے! حضور مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کاجذبہ ادب! جو شخص حروف تہجی (ALPHABETS)
بلکہ سادہ کاغذ تک کا احترام کرتا ہوگا وہ احترام مسلم کا نہ جانے کتنا خیال رکھتا ہوگا! چنانچہ حضور مفتی اعظم مسلمانوں کی غمخواری اور دلجوئی کرنے میں بھی اپنی مثال آپ تھے، مسلمان کا دل توڑنے سے ہر دم اجتناب فرماتے، ان کو فائدہ پہنچانے کے بے حد حریص تھے اور حریص کیوں نہ ہوتے کہ جس مدنی آقا میٹھے میٹھے مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ عشق تھا انہیں کا ارشاد حقیقت بنیاد ہے،
خَیْرُ النَّاسِ اَنْفَعُہُمْ لِلنَّاسِ
یعنی ''بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچائے۔''
(الجامع الصغیر للسیوطی،ص۲۴۶ حدیث ۴۰۴۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اس حدیث پاک پر عمل کی مدنی جھلک پیش کرتی ہوئی ایک انوکھی حکایت ملاحظہ فرمائیے چنانچہ حضور مفتی اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک خاص موقع سے مدرسہ فیض العلوم (دھتکی ڈیہہ جمشید پور، جھار کھنڈ الھند)میں مدعو کیے گئے۔ واپسی پر ریلوے اسٹیشن جانے کے لیے حضور مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رکشہ میں تشریف فرما ہوئے ہی تھے کہ اتنے میں