عالم باعمل، فاضل اجل، عاشق نبی مرسل، ولی رب لم یزل، آفتاب ولایت، ماہتاب ہدایت، تاجدار اہل سنت، شہزادہ اعلی حضرت،سیدنا ومولانا الحاج محمد مصطفی رضا خان علیہ رحمۃ المنان المعروف ''حضور مفتی اعظم ہند '' سادہ کاغذات اور حروف مفردہ کی بھی تعظیم بجالاتے تھے کیوں کی وہ قراٰن و حدیث اور شریعت کی باتوں کو لکھنے میں کام آتے ہیں۔ ۱۳۹۱ھ میں دارالعلوم ربانیہ، باندہ (الہند)کے سالانہ جلسہ دستار بندی میں حضور مفتی اعظم ہند رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تشریف لائے۔ سواری سے اتر کر چند ہی قدم چلے تھے کہ آپ کی نظر اردو لکھائی والے کاغذ کے چند بوسیدہ ٹکڑوں پر پڑی، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فوراًان کو زمین سے اٹھایا اور فرمایا: کاغذات اور عربی حروف (کہ اردو کے بھی چند کے علاوہ سبھی حروف عربی ہیں ان)کا احترام کرنا چاہیے اس لیے کہ ان سے قراٰن عظیم و احادیث مقدسہ اور تفاسیر وغیرہ مرتب ہوتی ہیں۔''