علٰی صاحِبِہا الصَّلٰوۃ وَالسَّلام
کی پُر بہار فضا ؤ ں میں ایک بارامیرُالمؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ ا عظم اور دیگر صحابہ کرام علیھم الرضوان میں قراٰن پاک کے فضائل پر مذاکرہ ہو رہا تھا۔ اِس دَوران حضرتِ سیِّدُنا عَمْرْوبِن مَعدِیکرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، یا امیرُالمؤمِنِین ! آپ حضرات
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
کے عجائبات کو کیوں بھول رہے ہیں، خدا کی قسم !
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
بَہُت ہی بڑا عَجوبہ ہے ، امیرُالمؤمِنِین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمانے لگے ،اے ابوثَور!(یہ حضرت سیِّدُنا عَمْرْو بِن مَعدِی کرب کی کُنْیت تھی)آپ ہمیں کوئی عَجِیبہ سنایئے: چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عَمْرْوبِن مَعدِی کرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،زمانہ جاہِلیّت تھا، قَحْط سالی کے دَوران تلاشِ رزْق کی خاطِرمیں ایک جنگل سے گزرا، دُور سے ایک خَیمہ پر نظر پڑی، قریب ہی ایک گھوڑا اور کچھ مَویشی بھی نظر آئے۔ جب قریب پہنچا تو وہاں ایک حسین و جمیل عورت بھی موجود تھی اورخَیمہ کے صِحن میں ایک بوڑھا شخص ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔'' میں نے اُس کو دھمکاتے ہوئے کہا ، ''جو کچھ تیرے پاس ہے میرے