| فیضانِ بسم اللہ |
فرمانِ مصطَفےٰ :(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) مجھ پر دُرُود شریف پڑھو اللہ تعالی تم پر رحمت بھیجے گا۔
رَحْمت و مَعُونَت ہے ۔ شکر بجا لایا اور حاضِر مُواجَہَہ عالِیہ ہوکر مشغول رہا ۔ کوئی آواز نہ سنائی دی ،جب باہَر آیا پھر وُہی حال تھا کہ خانقاہِ اقدس کے باہَر قِیام گاہ تک پہنچنا دشوار ہوا ۔ فقیر نے یہ اپنے اوپرگُزری ہوئی گزارِش کی ،کہ اوّل تو وہ نعمتِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ تھی اور ربَّ عَزَّوَجَلَّ فرماتاہے ،
وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ ﴿٪۱۱﴾
؎ ۱ اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کو لوگوں سے خوب بیان کر ۔''مَع ھذٰا اِس میں غُلامانِ اولیائے کِرام
رَحِمَہُمُ اللہُ تعالیٰ
کیلئے بِشارت اور مُنکِروں پر بَلا و حسرت ہے ۔ الہٰی ! عَزَّوَجَلَّ صَدَقہ اپنے محبوبوں (رِضْوانُ اللہِ تعالیٰ علیھم اَجمعین )کاہمیں دنیا و آخِرت و قَبْر و حَشْر میں اپنے محبوبوں عَلَیہُمُ الرِّضْوَان کے بَرَکاتِ بے پایاں سے بَہرہ مند فرما۔
(اَحْسَنُ الْوِعَاء لِاٰدَابِ الدُّعاء ص ۶۰ تا ۶۱)
صلُّو اعلَی الْحَبِیب! صلَّی اللہُ تعالیٰ علیٰ محمد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ حِکایت'' بائیس خواجہ کی چَوکھٹ دِہلی شریف'' کی ہے ۔اِس میں تاجدارِ دِہلی حضرت سیِّدُنا خواجہ محبوبِ الہٰی نظام ُالدّین اولیا ء رَحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نُمایا ں کرامت ہے ۔جبکہ میرے آقا اعلیٰحضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بھی یہ کرامت ہی ہے کہ قبرِ انور والے کمرہ میں قدم رکھتے تھے تو انہیں ڈھول باجوں کی آوازیں نہ سنائی دیتی تھیں ۔اِس حِکایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ باِلفرض اگر مزاراتِ اولیاء پر جُہَلاء غیر شَرْعی حَرَکات کررہے ہوں اور ان کو روکنے کی قُدرت نہ ہو تب بھی اپنے آپ کو اَہلُ اللہ
رَحِمَہُمُ اللہُ تعالی
کے درباروں کی حاضِری سے
۱ پ ۳۰ سورۃُ الضُّحیٰ آیت ۱۱