حضرتِ بِشر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تلاش میں نکل پڑے۔ ان کوپتاچلاکہ وہ شراب کی مَحفِل میں ہیں تو وہاں پہنچے اور بِشرکوآواز دی ۔ لوگوں نے بتایاکہ وہ تو نَشے میں بدمست ہیں ! اُنہوں نے کہا، اُنہیں جاکرکِسی طرح بتا دو کہ ایک آدمی آپ کے نام کوئی پَیغام لایا ہے اوروہ باہَر کھڑا ہے۔کسی نے جا کر اندر خبر دی۔ حضرت سیِّدُنا بِشرحافی علیہ رحمۃاللہِالکافی نے فرمایا،اُس سے پو چھوکہ وہ کِس کاپیغام لایاہے؟ دَریافْتْ کرنے پروہ بُزُرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمانے لگے،اﷲعَزَّوَجَلَّ کاپیغام لایاہوں۔جب آ پ ر حمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کویہ بات بتائی گئی توجُھوم اُٹھے اورفَوراً ننگے پاؤں باہَر تشریف لے آئے پَیغَامِ حق سُن کرسچّے دِل سے تَوبہ کی اوراُس بُلَندمَقام پرجاپہنچے کہ مُشاہَدَہ حق کے غَلَبہ کی شِدَّت سے ننگے پاؤں رہنے لگے۔اِسی لئے آپ رحمۃاﷲتعالیٰ علیہ حافی(یعنی ننگے پاؤں والا )کے لقب سے مشہور ہوگئے۔