لیکن اس کے بعد مشکل یہ آئی کہ کئی دفعہ کے اصرار کے باوجود والدہ راضی نہیں ہوتی تھیں۔ لیکن مجھے آج بھی حیرت ہوتی ہے کہ میری وہ والدہ جو پہلے تو مجھے درس نظامی کی اجازت نہیں دیتی تھیں۔مگر جب میں میٹرک کے پیپر سے فارغ ہوکر گھر آیاتو دوسرے دن خود ہی مجھے فرمانے لگیں کہ'' کیا ہو ا تم نے ابھی تک داخلہ نہیں لیا تاخیر نہ کرو کہ اس میں نقصان ہے۔''بس پھر کیا تھا میں نے ہاتھوں ہاتھ جامعۃ المدینہ (فیضانِ عثمانِ غنی گلستان جوہر باب المدینہ کراچی )میں داخلہ لے لیا کہ کہیں والدہ دوبارہ منع نہ کردیں ۔الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ وہاں درسِ نظامی کرنے کے ساتھ ساتھ مبلغینِ دعوتِ اسلامی کی صحبت میں رہنے کا بھی موقع مِلا ۔جس کی برکت سے میں مَدَنی کاموں میں آگے بڑھتا چلا گیا ۔درجہ ثالثہ میں ہمارادرجہ جامعۃ المدینہ فیضان مشتاق ص( النورسوسائٹی بلاک 19فیڈرل بی ایریا باب المدینہ کراچی )منتقل ہوگیا۔ یہاں مجھے علاقائی اسلامی بھائیوں سے مل کرخوب خوب مدنی کام کرنے کا موقع ملا۔ وہاں الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ حلقہ سطح کی ذمہ داری ملی ہوئی تھی۔جامعۃ المدینہ میں پڑھتے ہوئے الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ گاہے بگاہے اپنے مرشدِ کریم امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی بارگاہ میں بھی حاضرہوتا رہتا تھا ۔
درجہ سادسہ (یعنی چھٹے درجے)میں ہم دوبارہ جامعۃ المدینہ (فیضان عثمان غنی گلستان جوہر ) منتقل ہوگئے۔ لیکن میں مدنی کام کے لئے علاقہ واٹر پمپ ہی میں آیا کرتا تھا۔ایک مرتبہ چند اسلامی بھائیوں کے رویے سے دل برداشتہ ہوکر میں نے اراد ہ کر لیا کہ اب اس علاقے میں نہیں آیا کروں گا ۔ چُنانچہ اس دن میں ظہر کی نماز