Brailvi Books

فیضانِ امیرِ اہلسنّت
74 - 102
کی ترغیب دلائی گئی۔ ہم نے آئندہ جمعرات کو کافی طلبہ کو اجتماع کی دعوت دی اور سات یا آٹھ اسلامی بھائیوں کو دارالاقامت سے اجتماع میں لانے میں کامیاب بھی ہوئے ۔ اسی طرح ہر جمعرات کو اجتماع میں حاضری کے ساتھ ساتھ دارالاقامت میں بھی مدنی کام شروع کر دیا۔حالانکہ وہاں بدمذہبوں کی اجارہ داری تھی اور ان کی طرف سے ہماری شدید مخالفت بھی ہوئی مگر ہم ان تما م مخالفتوں کا سامنا کرتے ہوئے بھی مَدَنی کام کرتے رہے ۔کچھ ہی عرصے بعد میں نے سبز سبز عمامے کا تاج بھی اپنے سر پر سجا لیا ۔
    پھرمیں نے عالَم اسلام کے عظیم رہنما شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت کی زیارت کی ۔ہوا یوں کہ ہم راہِ خدا عزوجل میں سفر پر تھے کہ ہمیں اطلاع ملی کہ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ گلزارِ طیبہ (سرگودھا) میں سنتوں بھرے اجتماع میں بیان فرمائیں گے ۔ ہمارے قافلے کا رخ گلزارِ طیبہ کی طرف ہوگیا ۔ شبِ معراج کی پُرکیف ساعتیں تھیں جب میں نے امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی زیارت کی ۔ میں عالَم وجد میں اُس نورانی چہرے کو تکتا رہا جس کے بارے میں خطیب صاحب نے فرمایا تھا:''''مولانا الیاس قادری صاحب کے احسانات کا بدلہ کون چکا سکتا ہے؟''''اسی اجتماع میں امیرِاہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے دامن سے وابستہ ہوکر میں عطاّری بھی بن گیا ۔
    پھر میں صوبائی و بین الاقوامی اجتماع میں شریک ہوا ۔جہاں مجھے نیکی کی دعوت عام کرنے کا مزید جذبہ نصیب ہوا۔میں نے اپنے شہر جاکراپنی بساط کے مطابق دعوت اسلامی اور امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا تعارف عام کرناشروع
Flag Counter