Brailvi Books

فیضانِ امیرِ اہلسنّت
73 - 102
میرے واقف ہوں۔ میں متعجب تھا کہ یا خدایا! یہ کیسے لوگ ہیں کہ پہلی ہی ملاقات میں ایسی محبت دے رہے ہیں جو مجھے کبھی شاید اپنوں نے بھی نہ دی ہو ۔اے میرے پروردگار! یہ کیسے لوگ ہیں جو ایسے دور میں بھی ایسی بے غرض محبت سے سرشار ہیں کہ جہاں سگے رشتے داربھی بغیر مطلب کے منہ نہیں لگاتے، کیا انسانوں کے اس جنگل میں جہاں حرص وہوس کے بھوکے بھیڑیے ہر طرف خود غرضی کا منہ کھولے نگلنے کو تیار ہیں ایسے بے لوث مبلغین بھی موجود ہیں؟ اخلاق و محبت اور خلوص و مروّت کے یہ پیکر کیا اسی دھرتی پر اپنی خیرخواہی کی بہار دکھا رہے ہیں؟کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا ۔ مگرمجھے یقین کرنا پڑا کہ یہ خواب نہیں حقیقت تھی ۔بس دعوت اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں پہلی بار شریک ہوتے ہی میرے دل یہ صدا نکلنے لگی اے اللہ! مجھے بھی ان جیسا بنا دے۔
    انہی جذبات کے ساتھ دیر تک اپنے ان اسلامی بھائیوں میں گھومتا پھرتا رہا۔ مگر میں مجبور تھا کہ زیادہ دیر تک رُک نہیں سکتا تھا کیونکہ ہاسٹل کا مین گیٹ بند ہوجاتا تھا ۔سو بادلِ نخواستہ میں واپس ہولیا ۔ اگلے دن میں نے اپنے ہم مکتب (رُوم میٹ) دوستوں کو اپنے تاثرات سے آگاہ کیا اور آئندہ جمعرات انہیں بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی۔انہوں نے حامی بھر لی ۔چُنانچہ اگلی جمعرات ہم تینوں (جن میں میرا وہ محسن بھی شامل تھا جس نے مجھے اس اجتماع کے بارے میں بتایا تھا )سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہوئے ۔اجتماع میں ہمیں دوسرے اسلامی بھائیوں کو دعوت پیش کرکے لانے
Flag Counter