میرے واقف ہوں۔ میں متعجب تھا کہ یا خدایا! یہ کیسے لوگ ہیں کہ پہلی ہی ملاقات میں ایسی محبت دے رہے ہیں جو مجھے کبھی شاید اپنوں نے بھی نہ دی ہو ۔اے میرے پروردگار! یہ کیسے لوگ ہیں جو ایسے دور میں بھی ایسی بے غرض محبت سے سرشار ہیں کہ جہاں سگے رشتے داربھی بغیر مطلب کے منہ نہیں لگاتے، کیا انسانوں کے اس جنگل میں جہاں حرص وہوس کے بھوکے بھیڑیے ہر طرف خود غرضی کا منہ کھولے نگلنے کو تیار ہیں ایسے بے لوث مبلغین بھی موجود ہیں؟ اخلاق و محبت اور خلوص و مروّت کے یہ پیکر کیا اسی دھرتی پر اپنی خیرخواہی کی بہار دکھا رہے ہیں؟کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا ۔ مگرمجھے یقین کرنا پڑا کہ یہ خواب نہیں حقیقت تھی ۔بس دعوت اسلامی کے سنّتوں بھرے اجتماع میں پہلی بار شریک ہوتے ہی میرے دل یہ صدا نکلنے لگی اے اللہ! مجھے بھی ان جیسا بنا دے۔