رونے والے ابھی دُنیا میں باقی ہیں ،مجھے کہاں معلوم تھا کہ اپنے پروردگارعَزَّوَجَلَّ سے دفعِ مصائب، حل مشکلات اور شفاء مریضاں کے لئے اس طرح رو رو کر فریاد کی جاتی ہے ۔ یہ میری زندگی کی پہلی دعا تھی جس میں مجھے لگا کہ جیسے دل سے گناہوں کا سارا میل کچیل اور غبار اتر گیا ہے اور یہ اُجلا اُجلا ہوگیا ہے۔ میری روح کی آلائشیں دور ہوگئیں اور وہ نکھر گئی ہے ۔ پھر کھڑے ہوکر صلوٰۃ و سلام پڑھا گیا۔مجھے یوں لگا کہ گویا میں سینکڑوں عشاق کے ہمراہ مدینہ پاک میں روضہ اقدس کے سامنے موجود ہوں۔ اپنے آقا صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم سے اتنا قرب مجھے شاید پہلے کبھی نہ محسوس ہوا ہو گا، ان پر نثار ہونے اور ان کے قدموں میں لوٹنے کو دل اتنا پہلے کبھی نہ مچلا ہو گا۔
اس کے بعد سنتیں سیکھنے سکھانے کے حلقے سج گئے۔ میں چونکہ پہلی بار اجتماع میں حاضر ہوا تھا ۔ لہذا کسی حلقے والوں سے جان پہچان نہ ہونے کے باعث کہیں بیٹھا نہیں بلکہ چل پھر کر مختلف حلقوں سے تھوڑا تھوڑا سننے لگا۔ ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است(یعنی ہر پھول کا اپنا رنگ اور خوشبو تھی)، مبلغین اسلام کے ان کھلتے ہوئے پھولوں سے سارا گلشن مہک رہا تھا اور میں اس باغ میں ادھر ادھر ٹہل رہا تھا ۔اچانک ایک مبلغ اسلامی بھائی نے بڑی شفقت و محبت سے مجھ سے ملاقات کی اور میرا مکمل تعارف حاصل کرتے ہوئے میرا باقاعدگی سے اجتماع میں آنے بلکہ دوسروں کو لانے کا ذہن بنایا اور مجھے اپنا پکا دوست بنا لیا۔حلقے ختم ہوئے تو سب اسلامی بھائی ایک دوسرے کوملنے لگے۔ میں حالانکہ کسی کو جانتا تک نہ تھا مگر سب مجھے یوں اپنائیت سے ملتے جاتے جیسے سب