صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کو راضی کرنے اور ان کی ناراضی سے بچنے کے موضوع پر بیان کررہے تھے۔ان کے منہ سے نکلنے والے الفاظ پر غور وفکر کرتا ہوا میں تصور ہی تصور میں جہنم کے عذابات اور جنّت کے انعامات بھی دیکھ آیا ۔ میں سوچنے لگا کہ اللہ تعالی کی رضاکیسے حاصل ہوگی؟ اس کے غضب سے میں کیونکر بچ پاؤں گا ؟ہائے! جہنم کی اس بھڑکتی آگ اور ڈنک مارتے بڑے بڑے سانپ بچھؤوں کا عذاب کیونکر برداشت کروں گا؟ آہ! جنت کی ازلی نعمتوں، ابدی راحتوں سے محروم کر دیا گیا تو میرا کیا بنے گا؟ بس اسی وقت میں نے یہ نیّت کر لی کہ خود کو گناہوں سے بچا کر ان عذابوں سے چھٹکارا پانا اور خوب خوب نیک اعمال بجا لا کر جنتی نعمتوں کا حقدار بننا ہے۔بیان کے آخر میں مبلغ نے راہِ خدا عز و جل میں سفر کرنے والے مدنی قافلوں میں سفر کرنے کی ترغیب دلائی تو میں نے دل میں ٹھان لی کہ کبھی وقت نکال کر مدنی قافلے میں ضرور سفر کروں گا۔
بیان کے بعد لائٹیں بند کر دی گئیں اور سبز گنبد کا تصور باندھ کر درود پاک اور پھر کعبۃ اللہ شریف کا تصور باندھ کر ذکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا سلسلہ ہوا۔مجھے ایسا لگا جیسے میں کسی ایسی جگہ پر ہوں جہاں ہر چیز میرے رب قدیر کا ذکر کر رہی ہے۔ اس کے بعد دُعا شروع ہو گئی۔ مجھے کیا پتا تھا کہ اپنے گناہوں کا اقرار کرکے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے بخشش ومغفرت کا سوال کرنے والے ایسی گریہ زاری کرتے ہیں کہ پتھر دل کو بھی رونا آجائے ، میں کب جانتا تھا کہ اس خدائے جبار و قہار کے خوف سے زاروقطار