Brailvi Books

فیضانِ امیرِ اہلسنّت
70 - 102
سے پکار رہا تھا،
''الصلاۃ و السلام علیک یا رسول اللہ، وعلی آلک و أصحٰبک یاحبیب اللہ۔''
اس کے پیچھے کھڑے اسلامی بھائی( جو ایک بس سے اُتر اُتر کرایک جگہ جمع ہوتے جارہے تھے) بھی درود پاک کے یہی صیغے اس کے ساتھ دہرا رہے تھے ۔ سنّیت کے اس بر ملا اظہار و اعلان نے مجھے ایسا سرور بخشا کہ یہ منظر دیکھتے ہی سبز عمامے والوں کی اس تحریک یعنی دعوتِ اسلامی کو دل دے بیٹھا۔عاشقانِ رسول کا وہ قافلہ یونہی بلند آواز سے صلوٰۃ و سلام پڑھتا ہوا آگے بڑھا تو میں بھی بے خودی کے عالم میں ان کے ساتھ ہولیا۔
    درودوسلام کی صدائیں بلند کرتے ہوئے یہ قافلہ جلد ہی اجتماع گاہ میں پہنچ گیا مگر اس نے مختصر سے دورانئے میں میرے دل ودماغ پر وہ اثرات چھوڑے کہ مجھے فسق و فجور اور مکر و دغا سے نفرت محسوس ہونے لگی ،میں اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی فکر میں کھو گیا ۔میں حیران تھا کہ میرے ہی جیسے ان نوجوانوں کی روحوں کو ایسا غسل کس نے دیا کہ ان کی طہارت وپاکیزگی نے گناہوں کی گندگی میں لتھڑے ہوئے مجھ جیسے گنہگار کو ظاہر وباطن کی صفائی کی فکر میں مبتلا کردیا ، اور ان کے کردار کو ایساعطر بیز کس نے کر دیا کہ ان کی خوشبو سے مجھ بد کردار وبدبودار کے مشام جاں بھی معطّر ہونے لگے۔بہرحال میں مسجد میں داخل ہوا اور کثیر تعداد میں جمع عاشقانِ رسول کے درمیان جا بیٹھا۔

     ایک نوجوان مبلغ بڑے میٹھے میٹھے انداز میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے حبیب
Flag Counter