مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی محبت کا ایسا جذبہ دیا کہ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے ان جملوں کے ساتھ ہی ساتھ حامی بھر لی کہ ''گردن تو کٹ سکتی ہے مگرداڑھی نہیں ۔۔۔۔۔۔'' اور پھر''شاباش۔۔۔۔۔۔ شاباش۔۔۔۔۔۔شاباش'' کے اختتامی الفاظ نے روحانی طور پر ایسی پیٹھ تھپکی اور وہ ہمت مضبوط کی کہ پھر کوئی رکاوٹ داڑھی رکھنے میں کبھی آڑے نہ آ سکی خواہ وہ رشتہ داروں کی سختیاں تھیں یا کالج کے کلاس فیلوز کی پھبتیاں۔ الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں نے اپنے چہرے کو سنّتِ مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم سے آراستہ کر لیا ۔مگر وائے افسوس کہ جن کی روحانی توجہ نے یہاں تک پہنچا دیا ابھی تک ان کا کوئی خاطر خواہ تعارف نہ ہوسکا ۔ پھرایک رسالہ بنام ''پُراَسرار بھکاری'' کہیں سے ہاتھ لگا، پڑھا تو بہت متاثر کن پایا۔ میرے ایک ہم مکتب نے بتایا کہ جن کا یہ رسالہ ہے ان کی ایک تحریک بھی ہے جس کا (سوڈیوال کواٹر کی حنفیہ مسجد)اجتماع بھی ہوتا ہے اور اجتماع کے بعد وہ لوگ حلقے بنا کر دعائیں اور سنتیں یاد کرتے ہیں۔