میں استفسار کیا۔ انہوں نے نہایت شفقت سے فرمایا، ''کیا میں آپ کو ایک ایسی کتاب نہ دوں جس میں سرمے کے ساتھ ساتھ مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کی اور بھی بہت سی سنتوں کا بیان ہے۔ آپ جب تک چاہو اس کا مطالعہ کرو اورجب چاہو واپس کر دینا۔'' میں توقع سے بڑھ کر نوازش پر بہت خوش ہوا۔انہوں نے ایک خادِم کو آواز دی: ''بھائی یہاں سے فیضانِ سنت پکڑانا۔'' خادِم نے وہ کتاب بڑی عقیدت سے لاکر اُن کی خدمت میں پیش کردی ۔قبلہ خطیب صاحب نے وہ کتاب لی اور اسے بوسہ دیتے ہوئے اشکبار ہو گئے اور قریب موجود ایک صاحب (جو مسجد کیلئے فی سبیل اللہ الیکڑیشنر کا کام کیا کرتے تھے ) سے مخاطب ہو کر فرمایا، ''مولانا الیاس قادری صاحب کے احسانات کا بدلہ کون چکا سکتا ہے؟''جواباً ان صاحب نے بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا: ''واقعی، یہ سنیت کا بہت کام کر رہے ہیں۔''یہ الفاظ میرے ذہن میں نقش ہو گئے۔ مگر اُس وقت نہ تو میں امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے واقف تھا اور نہ ان کے احسانات سے ۔'' بہر حال میں نے ان سے خوشی خوشی فیضانِ سنّت لی اور لے جا کر بڑے شوق سے اپنے روم میٹ (یعنی ہم مکتب)دوستوں کواس کا کچھ حصہ پڑھ کر سُنایا ۔ اس کتاب کے سادہ مگرپُر کشش اندازِ بیاں نے سب کو ایسا مسحور کیا کہ جب کبھی ہم اس کتاب کو لے کر بیٹھتے توایک ہی نشست میں کئی کئی صفحات پڑھ لیتے۔کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ہماری آنکھیں اشکبار ہو جایا کرتیں۔ بالخصوص جب میں نے داڑھی رکھنے سے متعلق باب کا مطالعہ کیا تو امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے حکیمانہ انداز نے